صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 37 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 37

حيح البخاري - جلد ٢ ۳۷ باب ۲۳ ١٠ - كتاب الأذان لَا يَسْعَى إِلَى الصَّلَاةِ مُسْتَعْجِلًا وَلْيَقُمْ بِالسَّكِيْنَةِ وَالْوَقَارِ نماز کے لئے جلدی کرتے ہوئے نہ اُٹھے * اور چاہیے کہ اطمینان ووقار سے کھڑا ہو ٦٣٨ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا :۶۳۸: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان نے شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ہمیں بتایا۔انہوں نے تیجی سے سجی نے عبداللہ بن قَتَادَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُقِيِّمَتِ کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تکبیر اقامت کہی جائے تو کھڑے نہ ہو۔الصَّلَاةُ فَلَا تَقُوْمُوْا حَتَّى تَرَوْنِيْ یہاں تک کہ تم مجھے دیکھو کہ میں کھڑا ہوگیا ہوں اور تمہیں اطمینان اپنا شیوہ بنانا چاہیے۔وَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ۔تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ۔علی بن مبارک نے بھی ( سیمی سے اسی طرح ) بیان کیا۔اطرافه: ۶۳۷، ۹۰۹ تشریح: وَلْيَقُمُ بِالسَّكِيْنَةِ وَالْوَقَار: مضمون باب اس کی تشریح میں گزر چکا ہے۔شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے سکینت اور وقار سے متعلق بہت تاکید فرمائی ہے اور جلد بازی اور شتاب کاری کو اس قدر مذموم سمجھا ہے کہ نماز کے لئے اٹھنے میں بھی اسے ناپسند فرمایا ہے اور صحابہ کرام کو حکماً اس سے روکا۔اس ممانعت سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نماز میں طمانیت و متانت کس قدر ضروری ہے۔جو لوگ اپنی نماز میں مرغ کی طرح ٹھونگیں مارتے ہیں ان کی نماز کہاں تک نماز کہلانے کا حق رکھتی ہے۔صرف وہی نماز أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُ الْقُلُوبُ (الرعد: (۲۹) کی مصداق ہو سکتی ہے۔جو اپنی تمام شرائط و آداب اور متانت و وقار کے ساتھ ادا کی جائے۔بَاب ٢٤ : هَلْ يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ لِعِلَّةٍ کیا بسبب کسی ضرورت کے مسجد سے نکلے؟ ٦٣٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ :۶۳۹: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، اللهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ عَنْ کہا: ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے صالح فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لَا يَسعی کی بجائے لَا يَقُومُ کا لفظ ہے (فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۱۵۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔