صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 503 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 503

صحيح البخاری جلد ۲ ۵۰۳ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة باب ١٦ إِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ مَا زَاغَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ سورج ڈھلنے کے بعد جب کوچ کرے تو ظہر پڑھ لے۔ پھر سوار ہو ۱۱۱۲: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۱۱۲: قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ مفضل بن فضالہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ قَالَ كَانَ سے عقیل نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ حضرت انس بن ما انس بن مالک سے روایت کی کہ انہوں نے قَبْلَ أَنْ تَزِيعَ الشَّمْسُ أَخَرَ الظُّهْرَ إِلَى کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر میں عصر کے وقت تک فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ تاخیر کرتے۔ پھر اُتر کر دونوں جمع کرتے اور اگر کوچ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ۔ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھتے پھر سوار ہوتے۔ اطرافه: ۱۱۱۱۔ تشريح : إِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ مَا زَاغَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الظَّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ: حضرت انس بن مالک کی مذکورہ بالا روایت نمبر اااا میں ابھی گزر چکی ہے، دونوں صورتیں جائز ہیں۔ ظہر میں عصر تک تاخیر کر کے یا عصر اپنے وقت سے پہلے ظہر کے ساتھ۔ یہ نمازیں دونوں طرح جمع کی جاسکتی ہیں ۔ ایسا ہی مغرب اور عشاء بھی۔ (دیکھئے روایات نمبر ۱۱۰۶ تا ۱۱۰۹) بَاب ۱۷ : صَلَاةُ الْقَاعِدِ بیٹھے ہوئے کی نماز ۱۱۱۳ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ۱۱۱۳: قتیبہ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک مَّالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ سے، مالک نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ ہے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔