صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 502 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 502

البخاری جلد ۲ ۵۰۲ ۱ - كتاب تقصير الصلاة باب ١٥ يُؤجر الظهر إلى العصر إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيْعَ الشَّمْسُ جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر کرے تو ظہر میں عصر تک تاخیر کرے۔فِيْهِ ابْنُ عَبَّاسِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۱۱۱۱: حَدَّثَنَا حَسَّانُ الْوَاسِطِيُّ اااا: حسان واسطی نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ مُفضل بن فضالہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنس بن بن خالد ) سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَنْ تَزِيْعَ الشَّمْسُ أَخَرَ الظُّهْرَ إِلَى جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر کرتے تو ظہر کی نماز وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا وَإِذَا میں عصر کے وقت تک تاخیر کرتے۔پھر ان دونوں کو زَاغَتْ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ۔جمع کرتے اور اگر سورج ڈھل گیا ہوتا تو پھر ظہر اطرافه ۱۱۱۲ تشریح: پڑھتے۔پھر سوار ہوتے۔إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيْعَ الشَّمْسُ : عنوان باب میں حضرت ابن عباس کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا۔وہ روایت نمبر ۱۱۰۷ میں دیکھئے۔اس میں انہوں نے جمع کرنے کے لئے یہ قید لگائی ہے: إِذَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ سَيْرٍ۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہر سے پہلے اگر کوچ ہوتا تو سفر میں ظہر اور عصر جمع کیا کرتے۔