صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 504
البخاري - جلد ۲ ١٨ - كتاب تقصير الصلاة صَلَّى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہ کہتی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں نماز فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍ فَصَلَّى جَالِسًا پڑھی جبکہ آپ بیمار تھے۔آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور لوگوں وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر۔آپ نے انہیں اشارہ کیا أَنِ اجْلِسُوْا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّمَا کہ بیٹھ جاؤ۔جب (نماز سے) فارغ ہوئے تو آپ نے جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فرمایا: امام تو صرف اس لئے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی فَارْكَعُوْا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوْا۔جائے سو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ (سر) اُٹھائے تو تم بھی (سر) اُٹھاؤ۔اطرافه ٦۸۸، ١٢٣٦، ٠٥٦٥٨ ١١١٤: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ :۱۱۱۴: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: (سفیان) حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَقَطَ رَسُولُ زہری نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ فَحُدِسَ أَوْ فَجُحِشَ شِقُهُ الْأَيْمَنُ علیہ وسلم گھوڑے پر سے گر پڑے تو آپ کا داہنا فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ پہلو پھل گیا یا خراش آئی۔ہم آپ کے پاس آپ کی فَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا قُعُوْدًا وَقَالَ إِنَّمَا عیادت کے لئے آئے۔اتنے میں نماز کا وقت آ گیا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبَرُوا تو آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ہم نے بیٹھ کر نماز وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوْا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوْا پڑھی اور آپ نے فرمایا: امام تو اس لئے مقرر کیا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُوْلُوْا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔سو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو۔جب رکوع کرے تو تم رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ۔بھی رکوع کرو۔جب ( سر ) اُٹھائے تو تم بھی (سر) اُٹھاؤ اور جب سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہے تو تم کہو: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ۔اطرافه ،۳۷۸ ،۶۸۹، ۷۳۲ ۷۳۳، ۸۰۵، ۱۹۱۱، ۲۴۶۹، ٥۲۰۱ ٥٢٨٩، ٦٦٨٤