صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 501 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 501

صحيح البخاری جلد ۲ ۵۰۱ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة ثُمَّ يُسَلِّمُ وَلَا يُسَبِّحُ بَيْنَهُمَا بِرَكْعَةٍ وَلَا رَکھتیں (نماز) پڑھ کر سلام پھیرتے اور نہ ان کے بَعْدَ الْعِشَاءِ بِسَجْدَةٍ حَتَّى يَقُوْمَ مِنْ درمیان کوئی رکعت نفل پڑھتے اور نہ عشاء کے بعد کوئی جَوْفِ اللَّيْلِ۔ سجدہ کرتے۔ پھر آدھی رات کو اٹھتے ۔ اطرافه: ۱۰۹۱، ۱۰۹۲، ۱۱۰۶، 1668 ، 1673، 1805، 3000۔ ۱۱۱۰: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا ۱۱۱۰: الحق (بن منصور ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ حَدَّثَنَا عبد الصمد ( بن عبد الوارث ) نے ہمیں بتایا۔ (کہا :) يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ حرب ( بن شداد ) نے ہم سے بیان کیا ۔ (انہوں بْنِ أَنَسٍ أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ نے کہا: ) بھی ( بن ابی کثیر ) نے ہم سے بیان کیا ، کہا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حفص بن عبید اللہ بن انس نے مجھے بتایا کہ حضرت كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ فِي انس رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا: رسول اللہ السَّفَرِ يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ۔ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں یہ دونوں نمازیں جمع کیا اطرافه: ۱۱۰۸۔ کرتے تھے یعنی مغرب اور عشاء۔ تشريح : هَلْ يُؤَذِّنُ أَوْ يُقِيمُ إِذَا جَمَعَ: دار قطنی نے حضرت ابن عمر کے متعلق ایک روایت نقل کی ہے کہ وہ سفر میں تھے۔ سواری سے اتر کر تکبیرا قامت کہی اور مغرب اور عشاء جمع کی۔ وَكَانَ لَا يُنَادِي لِشَيْ ءٍ مِّنَ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ۔ (سنن الدار قطنى۔ كتاب الصلاة باب الجمع بين الصلاتين في السفر، جزء اول صفحه ۳۹۰) یعنی سفر میں کسی نماز کے لئے اذان نہ دیتے تھے۔ اس روایت کو مد نظر رکھ کر عنوان باب میں سوال اٹھایا گیا ہے: هَلْ يُؤَذِّنُ أَوْ يُقِيمُ ۔ روایت نمبر ۱۰۹ میں اقامت کی وضاحت تو ہے ، اذان کی نہیں ۔ مگر روایت نمبر ۱۱ میں نہ اقامت کا ذکر ہے نہ اذان کا۔ مطلق نماز جمع کرنے کا ذکر ہے جس سے بعض نے یہ استدلال کیا ہے کہ نماز اپنے ارکان و شروط کے ساتھ ہی پڑھی جاسکتی ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۵۰ )