صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 500
صحیح البخاری جلد ۲ ۱ - كتاب تقصير الصلاة الْمُبَارَكِ وَحَرْبٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ سے بچی نے حفص سے ، حفص نے حضرت انسؓ سے حَفْصٍ عَنْ أَنَسٍ جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (نمازیں) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه ۱۱۱۰ اکٹھی پڑھیں۔تشریح الْجَمْعُ فِى السَّفَرِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ: اس باب میں تین روایتیں نقل کی گئی : ہیں۔دو حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن عباس کی جو مقید ہیں یعنی جب آپ کو سفر کی جلدی ہوتی یا بحالت سفر ہوتے تو جمع کرتے۔تیسری روایت حضرت انس کی ہے جو مطلق ہے۔امام بخاری نے عنوان باب کو مطلق رکھ کر اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے۔حضرت انس بن مالک کو آپ کے ساتھ سفروں میں رہنے کا زیادہ موقع ملا ہے اس لیے ان کی روایت کو ترجیح دی گئی ہے۔یہی مذہب اکثر صحابہ تابعین اور فقہاء کا ہے۔امام ابو حنیفہ اور ان کے ہم خیال سوائے عرفات اور مزدلفہ کے باقی جگہوں میں جمع کے قائل نہیں خواہ سفر کی حالت کیسی ہو۔( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۴۸ ) بَاب ١٤ : هَلْ يُؤَذِّنُ أَوْ يُقِيمُ إِذَا جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ اگر مغرب اور عشاء کو جمع کرے تو کیا اذان دے یا تکبیر اقامت ہی کہے ۱۱۰۹: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :١١٠٩ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِي قَالَ نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے أَخْبَرَنِي سَالِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ کہا: سالم نے مجھے بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْجَلَهُ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ کو سفر میں السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ صَلَاةَ جلدی چلتا ہوتا تو مغرب کی نماز میں تاخیر کرتے تاکہ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ مغرب اور عشاء کو جمع کریں۔سالم کہتے تھے: الْعِشَاءِ قَالَ سَالِمٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَفْعَلُهُ حضرت عبد اللہ بن عمر) بھی ایسا ہی کرتے جب إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ وَيُقِيمُ الْمَغْرِبَ انہیں چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب کی تکبیر اقامت فَيُصَلِّيْهَا ثَلَاثًا ثُمَّ يُسَلِّمُ ثُمَّ قَلَّمَا يَلْبَتُ کہلواتے اور تین رکعت پڑھ کا سلام پھیرتے۔پھر حَتَّى يُقِيمَ الْعِشَاءَ فَيُصَلِّيْهَا رَكْعَتَيْنِ تھوڑی دیر ٹھہر کر عشاء کی تکبیر اقامت کہلواتے اور دو