صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 34 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 34

البخاری جلد ۲ سمسم باب ۲۰ : قَوْلُ الرَّجُل فَاتَتْنَا الصَّلَاةُ آدمی کا یہ کہنا کہ نماز ہم سے چھوٹ گئی ١٠ - كتاب الأذان وَكَرِهَ ابْنُ سِيْرِيْنَ أَنْ يَقُوْلَ فَاتَتْنَا اور ابن سیرین نے یہ کہنا بھی نا پسند کیا کہ نماز ہم سے الصَّلَاةُ وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَمْ نُدْرِكَ وَقَوْلُ چھوٹ گئی بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہم نے نماز نہیں پائی اور النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا بالکل بجا ہے۔٦٣٥ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا :۶۳۵: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان نے شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ہمیں بتایا۔انہوں نے سجی سے ہی نے عبد اللہ بن قَتَادَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي ابو قتادہ سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کی۔مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ وہ کہتے تھے : اس اثناء میں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ مَا کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔آپ نے کچھ آدمیوں شَأْنَكُمْ قَالُوْا اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ کا شور سنا۔جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا تمہیں کیا قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ ہو گیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہم نماز کے لئے جلدی فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِيْنَةِ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوْا جلدی آ رہے تھے۔فرمایا: ایسا نہ کیا کرو جب تم نماز کو آؤ تو تمہیں آرام سے آنا چاہیے۔جو تم پالو ا سے وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُوْا۔تشریح: پڑھو اور جو تم سے رہ جائے اسے پورا کرو۔قَولُ الرَّجُلِ فَاتَتْنَا الصَّلوةُ : علماء سلف نے مسائل میں یونہی موشگافیاں کی ہیں۔جن کی مثال اس باب میں بھی دی گئی ہے۔وقول النبي ﷺ اصح یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فوت۔(یعنی جاتے رہنے ) کا لفظ لَمْ تُدْرَک یعنی نہ پانے کے مفہوم میں استعمال کیا ہے اور فات کا یہ استعمال بالکل درست ہے خلاف ادب نہیں۔