صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 33 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 33

حيح البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان أُذُنَيْهِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَجْعَلُ إِصْبَعَيْهِ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور حضرت فِي أُذُنَيْهِ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ لَا بَأْسَ أَنْ ابن عمر اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں نہیں ڈالا کرتے يُؤَذِنَ عَلَى غَيْرِ وُضُوْءٍ وَقَالَ عَطَاءٌ تھے اور ابراہیم نے کہا: کوئی حرج نہیں کہ بغیر وضو کے الْوُضُوْءُ حَقٌّ وَسُنَّةٌ وَقَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ اذان دے اور عطاء نے کہا: وضوضروری ہے اور سنت النَّبِيُّ ﷺ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلّ أَحْيَانِهِ ہے اور حضرت عائشہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔٦٣٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۶۳۴ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عون بن ابی جحیفہ سے ، عون جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ رَأَى بِلَالًا يُؤَذِّنُ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت بلال ے فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَهُهُنَا وَهُهُنَا بِالْأَذَانِ کو دیکھا کہ اذان دے رہے ہیں تو میں بھی اذان کے ساتھ ان کی طرح ادھر اُدھر منہ پھیر نے لگا۔اطرافه: ١٨٧، ٣٧٦، 495، 499، 501، ٦٣٣، ٣٥٥٣، ٣٥٦٦، ٥٧٨٦، ٥٨٥٩۔تشریح: :فرح : هَلْ يَتَبَّعَ الْمُؤذَنَ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا: هَلْ يَتَتَبَّعُ الْمُؤَذِّنُ فَاهُ هُنَا وَهَهُنَا : امام بخاری نے حرف استفہام سے عنوان باب قائم کر کے اس میں بعض فقہاء کے چند اختلافی مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے۔جو چنداں اہمیت نہیں رکھتے۔اس لئے جواب میں بھی اشارے اور اختصار سے کام لیا ہے۔پہلا مسئلہ اذان میں ادھر اُدھر منہ کرنا، خصوصاً حَيَّ عَلَى الصَّلوة اور حی علی الفلاح کہتے وقت۔حضرت بلال ایسا کیا کرتے تھے۔اگر کوئی کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ فائدہ ہے۔ادھر ادھر لوگوں کو آواز پہنچ جائے گی۔دوسرا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے۔تیسرا مسئلہ کانوں میں انگلیاں ڈالنا، اگر کوئی اپنے کان کو آواز کے صدمہ سے محفوظ رکھنے یا آواز بلند کرنے کی غرض سے ایسا کرتا ہے تو اچھا ہے اور اگر نہیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔یہ مسائل ارکان میں سے نہیں ہیں۔چوتھا مسئلہ بے وضو یا با وضو ہونے کی حالت میں اذان دینے سے متعلق ہے۔ابراہیم نخعی اور عطاء کے فتووں کا ذکر کر کے حضرت عائشہ کا ایک حوالہ دیا ہے۔جس سے یہ اشارہ کیا ہے کہ اذان ارکان صلوۃ میں سے نہیں۔بلکہ از قبیل ذکر الہی ہے جو ہر حالت میں جائز ہے۔ان مسائل سے متعلق اختلافات بعد میں پیدا ہوئے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانہ میں نہ تھے۔یہی وجہ ہے کہ باب کا عنوان ھل کے ساتھ قائم کر کے جواب اشاروں میں دیا ہے۔