صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 483 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 483

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۸۳ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة قَالَ أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا۔اطرافه ٤٢٩٧۔آپ لوگ مکہ میں کچھ ٹھہرے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہم وہاں دس روز ٹھہرے تھے۔تشریح : كَمْ يُقِيمُ حَتَّى يَقْصُرَ : امام بخاری نے صلوۃ الخوف اورصلوۃ العصر کے علیحدہ علیحدہ باب قائم : کر کے ان میں تمیز کی ہے۔حضرت عائشہؓ کے سوا سب کا اتفاق ہے کہ مسافر کو نماز قصر پڑھنی چاہیے۔یہ مسئلہ کہ سفر میں زیادہ سے زیادہ کتنی دیر تک اقامت میں مسافر قصر کر سکتا ہے، اختلافی ہے۔شریعت میں کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔فقہاء نے صرف قیاس سے کام لیا ہے۔امام مالک اور امام شافعی کا یہ مذہب ہے کہ اگر مسافر چار دن تک کسی جگہ ٹھہرے تو پوری نماز پڑھے اور امام ابو حنیفہ اور سفیان ثوری نے پندرہ دن کی حد مقرر کی ہے۔امام احمد بن حنبل کے نزدیک چار دن سے زائد ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو پوری پڑھے۔(بداية المجتهد۔كتاب الصلاة۔الجملة الثالثة۔الباب الرابع۔الفصل الأول في القصر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے ایام میں جب تک مکہ مکرمہ میں رہے نماز قصر کرتے رہے۔یہ مدت پندرہ دن سے لے کر انہیں دن تک تھی۔امام ابو حنیفہ نے کم از کم مدت سے استدلال کیا ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۲۵) امام بخاری انہیں دن کی مدت کو ترجیح دیتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔( روایت نمبر ۱۹۸۰) حضرت انس ہی روایت میں حجتہ الوداع کے موقع کا ذکر ہے۔اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار دن مکہ میں ٹھہرے تھے اور چھ دن مضافات میں۔ان دنوں میں بھی آپ نماز قصر کرتے تھے۔روایت نمبر ۱۰۸۰ کے الفاظ : فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ قَصَرْنَا کے یہ معنے ہیں کہ جب ہم انہیں دن سفر کریں تو قصر کرتے ہیں۔اس سے مراد قیام سفر ہے کیونکہ دیگر روایات میں قیام سفر کی صراحت ہے۔إِذَا سَافَرْنَا فَاقَمُنَا فِي مَوْضِعٍ } تِسْعَةَ عَشَرَ (مسند أبي يعلى۔مسند ابن عباس۔جز به صفر ۴ ۲۵۔روایت نمبر ۲۳۶۸) جب ہم سفر کریں اور (کسی جگہ) انہیں دن ٹھہریں تو ہم قصر کرتے ہیں۔امام ترمذی کی روایت سے بھی اسی امر کی تائید ہوتی ہے۔اس کے یہ الفاظ ہیں: فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ (ترمذى۔كتاب الجمعة، باب ماجاء في كم تقصر الصلاة۔) یعنی جب ہم اس سے زیادہ ٹھہر ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۲۶) بَاب ٢ : الصَّلَاةُ بِمِنِّى منی میں نماز پڑھنا ۱۰۸۲ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۰۸۲ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: بسیجی نے ہمیں بتایا۔يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ انہوں نے عبید اللہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نافع نے مجھے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ خبر دی۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ