صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 32
صحیح البخاری جلد ۲ ۳۲ ١٠ - كتاب الأذان بعض فقہاء کا خیال ہے۔ ٹھنڈی یا بارش والی رات میں باوجود اس کے کہ گھروں میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے ہے اذان دی جاتی ہے۔ ثُمَّ يَقُولُ عَلَى اثْرِهِ: ثُمَّ يَقُولُ عَلَى اثْرِہ: ان الفاظ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ کے الفاظ اذان مسنونہ ختم کرنے کے بعد کہے جائیں نہ کہ درمیان میں ۔ پانچویں روایت تکبیرا قامت سے متعلق مسئلہ بیان کرنے کی غرض سے لائی گئی ہے کہ حضر ہو یا سفر، اقامت بھی ایسی ہی ضروی ہے جیسے اذان۔ يط امام بخاری کے تصرفات لطیفہ میں سے یہ بھی ایک لطیف تصرف ہے کہ بعض وقت روایت ایسے لفظ پر ختم کر دیتے ہیں جو زیر بحث مسئلہ کے ساتھ خاص تعلق رکھتا ہے۔ یہاں تکبیرا قامت کی طرف توجہ مبذول کرنے کے لئے اقام الصلوۃ پر روایت ختم کر دی ہے۔ حالانکہ یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ کتاب الصلوۃ باب ۹۰: سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةً مَنْ خَلْفَهُ ( روایت نمبر ۴۹۵) میں گزر چکی ہے اور وہاں اس کے آخر میں یہ الفاظ الفاظ ہیں : تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ - عنوان باب (نمبر ۱۸) میں مسافر کا ذکر جو خصوصیت سے کیا گیا ہے تو اس کی وجہ بہ ا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مندرجہ تمام روایتیں حالت سفر کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ ضحنان کے ذکر سے بھی یہی بتانا مقصود ہے کہ یہ دوران سفر کی بات ہو رہی ہے۔ ضحنان ایک مقام کا نام ہے، جو مکہ سے ۲۵ میل کے فاصلہ پر ہے (فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۴۸) اور اصلح یا بطحاء بھی - مکہ سے باہر مشہور جگہ ہے۔ آپ ان جگہوں میں مسافر ہی تھے۔ عنوان باب میں عرفہ اور مزدلفہ کا ذکر بھی اس وجہ سے کیا ہے کہ ان مقامات سے متعلق مستند روایتوں میں صریح مذکور ہے کہ عرفہ میں حضرت بلال نے اذان دی اور تکبیرا قامت کہی اور آپ نے ظہر اور عصر کی نماز جمع کی۔ (مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی ) اور مزدلفہ میں آپ نے اذان اور اقامت کے ساتھ مغرب بھی پڑھی اور ایسا ہی عشاء بھی۔ (بخاری، کتاب الحج، باب من اذن واقام لكل واحدة منهما، روایت نمبر ۱۶۷۵) یہاں علامہ ابن حجر نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ عنوان باب اور اس کی روایت نمبر ۶۳۲ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف سفر میں یہ اجازت ہے کہ اگر بارش یا ٹھنڈی رات ہو تو گھر میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ حالانکہ جمہور کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضر میں بھی ایسا کرنا جائز ہے۔ اس کی وجہ نہ صرف قیاس ہے جیسا کہ علامہ ابن حجر نے اس طرف اشارہ کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۴۹) بلکہ یہ وجہ بھی ہے کہ حالت حضر سے متعلق بھی ایسی روایتیں موجود ہیں۔ ( روایت نمبر ۶۱۶) باب ۱۹ هَلْ يَتَتَبَّعُ الْمُؤَذِّنُ فَاهُ هُهُنَا وَهَهُنَا وَهَلْ يَلْتَفِتُ فِي الْأَذَانِ کیا مؤذن اذان دیتے وقت اپنا منہ ( اذان کے ساتھ ) اِدھر اُدھر کرے اور کیا وہ ادھر اُدھر مڑے وَيُذْكَرُ عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ جَعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي اور حضرت بلال سے بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے