صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 31 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 31

حيح البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان الرِّحَالِ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ أَوِ الْمَطِيْرَةِ اذان دے۔پھر اس کے بعد یہ کہے: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ یعنی اپنی جگہوں میں نماز پڑھ لو۔فِي السَّفَرِ۔اطرافه: ٦٦٦۔٦٣٣: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا :۶۳۳: اسحاق نے ہم سے بیان کیا، کہا: جعفر بن جَعْفَرُ بْن عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْس عون نے ہمیں بتایا، کہا: ابوا میں نے ہم سے بیان عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ کیا کہ انہوں نے عون بن ابی جحیفہ سے ،عون نے رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ فَجَاءَهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کو انجح میں دیکھا۔آپ کے بِالصَّلَاةِ ثُمَّ خَرَجَ بِلَالٌ بِالْعَنَزَةِ حَتَّى پاس حضرت بلال آئے اور نماز کی اطلاع دی۔پھر حضرت بلال برچھی لے کر باہر آئے اور رسول اللہ رَكَزَهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ۔صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ابطح میں اسے گاڑ دیا اور نماز کے لئے تکبیر اقامت کہی۔اطرافه: ۱۸۷ ، ٣٧٦ ،۱۹۵، ۱۹۹، ٥۰۱، ٦٣٤ ٣٥٥٣، ٣٥٦٦، ٥٧٨٦ ٠٥٨٥٩ تشریح: الاذَانُ لِلْمُسَافِرِینَ : یہ مسئلہ بھی اختلافی ہے کہ اذان تنہا آدمی کے لئے بھی ضروری ہے یا نہیں۔بعض نے اذان کو باجماعت نماز کے لئے مشروط کیا ہے۔خواہ سفر میں ہوں یا حضر میں کیونکہ ان کے نزدیک اذان سے مدعا لوگوں کو نماز کے لئے اطلاع دینا اور اکٹھا کرنا ہے۔لیکن اکثر فقہاء نے اس کو سنت مؤکدہ قرار دے کر ایک فرد کے لئے بھی ضروری قرار دیا ہے۔امام ابو حنیفہ، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل اور سفیان ثوری کا یہی مذہب ہے۔کیونکہ اذان کی غرض صرف نمازیوں کو بلانا نہیں بلکہ اعلان حق بھی ہے۔دیکھئے تشریح باب ۵۔جس میں حضرت ابو سعید خدری کی یہ روایت گزر چکی ہے کہ اگر تم بیابان میں بھی ہو، تب بھی بلند آواز سے اذان دو۔(روایت نمبر ۶۰۹) اقامت سے متعلق بھی اکثر کا یہی مذہب ہے، بلکہ فقہاء نے اس کو اذان سے بڑھ کرسنت مؤکدہ قرار دیا ہے۔فتح الباری جزء ثانی صفحه ۱۴۶ - ۱۴۷) عنوانِ باب کی ذیل میں پانچ روایتیں لائی گئی ہیں۔پہلی مطلق سفر میں اذان دے کر باجماعت نماز پڑھنے سے متعلق بطور حوالہ پیش کی گئی ہے۔تا سنت نبوی کا علم ہو۔دوسری اور تیسری لفظ جماعت کی تعریف کرتی ہے۔یعنی دو یا دو سے زیادہ آدمی جماعت کے حکم میں ہیں۔دو میں سے ایک مقتدی ہو اور دوسرا امام اور وہ اذان اور اقامت کے ساتھ باجماعت نماز ادا کریں۔چوتھی روایت اس غرض سے پیش کی ہے کہ اذان محض لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لئے نہیں ہوتی۔جیسا کہ