صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 455 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 455

البخاری جلد ۲ ۴۵۵ ١٦ - كتاب الكسوف عباس اور حضرت ابن عمرؓ کے باجماعت نماز پڑھانے کا حوالہ یہی ثابت کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔ان حوالوں کی تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶۹۷۔روایت نمبر ۱۰۵۲ پیش کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔کتاب الکسوف باب نمبرا میں بھی یہی مضمون مذکور ہے۔فَتَنَاوَلُتْ عُنقودًا : روایت نمبر ۱۰۵۲ کے آخر میں خوشہ لینے کے لئے آگے بڑھنے کا جو واقعہ مذکور ہے وہ بحالت کشف ہوا۔آپ کو مبشر اور منذر دونوں نظارے دکھائے گئے تھے۔لَوْ أَصَبْتُهُ لَا كَلْتُمْ مِّنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا ان الفاظ سے خوشہ انگور کی تعبیر واضح ہے کہ اس سے نعمتیں مراد ہیں۔اس نظارے سے آپ پر ظاہر کیا گیا تھا کہ مسلمانوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ دنیا کی نعمتوں سے محروم کئے جائیں گے اور زندگی ان کے لئے جہنم ہو جائے گی اور یہ سب ان کی اپنی ناشکری کی وجہ سے ہوگا۔ان کی بد عملی سے اسلام کا سورج تاریک ہو جائے گا اور وہ اپنی روشنی نہیں دے گا۔اس گرہن کو دیکھ کر آپ کے اضطراب اور طویل دعائیں کرنے اور آپ کی اس کشفی حالت سے اور آج آپ کے کشف کے ہو بہو پورا ہونے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ان تمام باتوں کے درمیان ایک طبعی اور گہرا تعلق تھا۔ان میں کوئی تصنع اور بناوٹ نہ تھی اور نہ وہ دعا ئیں کسی وہم کا نتیجہ تھیں۔اگر تصنع و تو ہم پرستی کا ذرہ بھر بھی شائبہ آپ میں ہوتا تو جب لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کی وجہ سے سورج تاریک ہو گیا ہے تو آپ ان کی بات رد نہ کرتے ، یا خاموش رہتے۔باب ١٠: صَلاةُ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ فِي الْكُسُوْفِ گرہن میں مردوں کے ساتھ عورتوں کا نماز پڑھنا ١٠٥٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۱۰۵۳ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: يُوْسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ هِشَامِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ سے، عُرْوَةَ عَنِ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ ہشام نے اپنی بی بی فاطمہ بنت منذر سے، فاطمہ نے الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی۔وہ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ کہتی تھیں : جب سورج گرہن ہوا تو میں حضرت عائشہ رضی اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ الله عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کے پاس آئی۔میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ خَسَفَتِ کیا دیکھا کہ لوگ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں اور حضرت الشَّمْسُ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّوْنَ وَإِذَا عائشہ بھی کھڑی نماز پڑھ رہی ہیں۔میں نے کہا: لوگوں کو هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا لِلنَّاسِ کیا ہوا ؟ انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ رضي عَائِشَة رَضِيَ