صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 456
البخاری جلد ۲ ۴۵۶ ١٦ - كتاب الكسوف فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَتْ کیا اور سبحان اللہ کہا۔میں نے پوچھا: کیا کوئی نشان ہے؟ سُبْحَانَ اللهِ فَقُلْتُ آيَةٌ فَأَشَارَتْ أَيْ انہوں نے اشارہ کیا یعنی ہاں۔کہتی تھیں : میں بھی کھڑی قَالَتْ فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلانِي ہوگئی۔یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی۔میں اپنے الْغَشْيُ فَجَعَلْتُ أَصُبُ فَوْقَ رَأْسِي سر پر پانی ڈالنے لگی۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز الْمَاءَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّی سے فارغ ہوئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ پھر فرمایا: کوئی بھی ایسی چیز نہیں کہ میں نے نہ دیکھی ہومگر میں ثُمَّ قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ كُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلَّا نے ( آج) اپنے اس مقام میں دیکھ لی ہے۔یہاں تک کہ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ جنت اور آگ کو بھی اور مجھے یہ وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں وَالنَّارَ وَلَقَدْ أَوْحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ تمہاری اسی طرح آزمائش کی جائے گی جیسا کہ دجال کے فِي الْقُبُوْرِ مِثْلَ أَوْ قَرَيْبًا مِنْ فِتْنَةِ فتنہ کے ذریعہ سے یا اس کے قریب قریب ؛ میں نہیں جانتی الدَّجَّالِ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَتْ أَسْمَاءُ کہ حضرت اسماء نے ان دونوں لفظوں میں سے کون سا لفظ يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا کہا تھا۔تم میں سے ایک کے پاس ( فرشتہ ) آئے گا اور الرَّجُل فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوْ الْمُوْقِنُ لَا کہے گا: اس شخص کی بابت تمہیں کیا علم ہے جو مانے والا ہے؟ یا فرمایا: یقین کرنے والا۔میں نہیں جانتی ، حضرت اسماء نے أَدْري أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُوْلُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا وَاتَّبَعْنَا فَيُقَالُ لَهُ نَمْ صَالِحًا فَقَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُوْقِنَا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أو الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَتْ ان دونوں لفظوں میں سے کون سا لفظ کہا۔تو وہ کہے گا، محمد مے اللہ کے رسول ہیں۔ہمارے پاس کھلے کھلے دلائل اور ہدایت کی باتیں لے کر آئے۔ہم نے ان کو مانا اور ایمان لے آئے اور ان کی پیروی کی۔اسے کہا جائے گا: آرام سے سو جا۔ہم تو جانتے ہی تھے کہ تو تو یقین کرنے والا ہی ہے اور جو منافق ہو گا یا شک کرنے والا، میں نہیں جانتی، ان میں سے حضرت أَسْمَاءُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ امام نے کون سا لفظ کہا تھا تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا۔يَقُوْلُوْنَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ۔لوگوں کو میں نے کچھ کہتے سنا۔میں نے بھی کہہ دیا۔اطرافه: 86، 184، 1054، ۱۲۳۵، ۱۳۷۳، ٢۵۱۹، ٢٥٢٠، ٧٢٨٧۔