صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 454
صحیح البخاری جلد ۲ لد ولد ١٦ - كتاب الكسوف رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ کے نشانوں میں سے دونشان ہیں۔ کسی کی موت اور وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ صَلَّى اللهُ زندگی کی وجہ سے نہیں گہناتے ۔ سو جب تم گرہن دیکھو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی جگہ کھڑے کھڑے وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا کوئی چیز پکڑی ہے پھر ہم نے دیکھا آپ پیچھے کو ہٹے اللَّهَ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ ہیں ۔ آپ نے فرمایا: میں نے جنت کو دیکھا تھا اور شَيْئًا فِي مَقَامِكَ ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَعْكَعْتَ ایک خوشہ لینے کو ہاتھ بڑھایا اور اگر وہ لے لیتا تو جب قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي رَأَيْتُ تک دنیا قائم رہتی تم اس سے کھاتے رہتے اور مجھے الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ عُنْقُودًا وَلَوْ أَصَبْتُهُ آگ بھی دکھائی گئی ۔ میں نے کبھی کوئی نظارہ ایسا لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وَأُريتُ بھیانک نہیں دیکھا جیسے آج۔ میں نے آگ والوں النَّارَ فَلَمْ أَرَ مَنْظَرًا كَالْيَوْمِ قَطُّ أَفْطَعَ میں اکثر عورتیں دیکھیں۔ لوگوں نے کہا: یا رسول الله ! وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا بِمَ يَا کس لئے؟ آپ نے فرمایا: ان کے اپنے کفر کی وجہ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُفْرِهِنَّ قِيْلَ يَكْفُرْنَ ہے ۔ آپ سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰکا کفر کے بِاللَّهِ قَالَ يَكْفُرْنَ الْعَشِيْرَ وَيَكْفُرْنَ ہیں؟ آپ نے فرمایا: خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ احسان فراموش ہوتی ہیں۔ اگر تو مر بھر ان میں سے الدَّهْرَ كُلَّهُ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ کسی پر احسان کرے۔ پھر اگر وہ تجھ ۔ پھر وہ سے ویسی کوئی مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ۔ سے کا کفر کرتی بات دیکھے تو وہ کہہ دے گی ۔ میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔ اطرافه: ۲۹، ۱۳۱ ، ۷۷۸، ۱۰۵۲، ۳۲۰۲، ۵۱۹۷۔ تشريح : صَلَاةُ الْكُسُوفِ جَمَاعَةُ : امام ثوری کا ذہ ہے کہ اگر امام اصلو موجودنہ ہوتو پھر الگ الگ نماز پڑھی جائے۔ لیکن جمہور اس کے خلاف ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ کسی اور کو امام بنا کر باجماعت نماز پڑھی جائے ۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶۹۷) امام بخاری اسی مذہب کی تائید میں ہیں۔ عنوان باب میں حضرت ابن