صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 441 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 441

تاری جلد ۲ ١٦ - كتاب الكسوف اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ کے زمانہ میں سورج گرہن اس روز ہوا جس روز إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ النَّاسُ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ابراہیم فوت ہوئے۔لوگوں نے کہا: ابراہیم کی موت لِمَوْتِ إِبْرَاهِيْمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّی کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے۔تو رسول اللہ صلی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند کسی کی موت اور يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا زندگی کی وجہ سے نہیں گہناتے۔جب تم ( گرہن ) دیکھو تو تم نماز پڑھو اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو۔رَأَيْتُمْ فَصَلُّوْا وَادْعُوا اللَّهَ۔اطرافه ١٠٦٠، ٦١٩٩۔۔تشریح: یہ باب قائم کیا گیا ہے اور اس ضمن میں چار روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ہر روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فَصَلُّوا مذکور ہے۔جس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اس کی مشروعیت کی حجت شرعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا داور آپ کی سنت ہے۔قرآن مجید میں اس کا حکم صراحتا نہیں۔ان چاروں روایتوں سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز کسوف سنت نبویہ ہے وہاں اس سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے نماز باجماعت پڑھی۔اس نماز کے مسنون ہونے اور باجماعت پڑھے جانے کے بارے میں سب ائمہ اور فقہاء کا اتفاق ہے اور اس بات پر بھی وہ متفق ہیں کہ آپ کا ہر حکم وحی الہی پر مبنی ہے۔بعض احکام میں وحی الہی جلی اور صریح ہے اور بعض میں خفی ہے اور استنباط سے کام لیا گیا ہے چنانچہ ہر ایسے نشان پر جس سے اللہ تعالیٰ کے علم و قدرت اور عظمت کا پتہ چلتا ہو، جناب الہی میں جھکنے کا ارشاد ہے: وَكَائِنُ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ (یوسف : ١٠٦) اور کتنے ہی نشان ہیں آسمانوں اور زمین اَلصَّلَاةُ فِى كُسُوفِ الشَّمُسِ : سورج گرہن ہونے پر نماز پڑھنے کی مشروعیت سے متعلق میں جن کے پاس سے ایسی حالت میں گذرتے ہیں کہ وہ ان نشانوں کو معمولی سمجھ کر ان سے اعراض کرتے ہیں۔شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کے دل میں محبت و عظمت الہی کے جذبات پیدا کرنے کی غرض سے ہر موقع سے فائدہ اٹھایا ہے اور مادی مملکت کے تغیرات کو ملکوت روحانی کے تغیرات کے ساتھ وابستہ کیا ہے تا انسان کسی وقت بھی نہ بھولے کہ اس کا قبلہ اور اس کا ملجاء و ماوی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔قحط باراں ہو تو اس کی طرف جھکو، حادثہ زلزلہ ہو تو اس کی جناب میں سر بسجو د ہو، سورج یا چاند گرہن ہو تو اس کے حضور دعائیں کرو تا وہ تمہیں ہر نقصان سے محفوظ رکھے۔ہماری پانچ نمازوں کے اوقات بھی کسی نہ کسی ایسے اہم تغیر زمانی کے ساتھ وابستہ ہیں جس کے بالمشابہ تغیرات انسان کی روحانی زندگی میں پائے جاتے ہیں۔اس لئے ان واقعات مخصوصہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے کا ارشاد ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے، کشتی نوح صفحہ اے تا ۷۲۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۷۰،۶۹ )