صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 438
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۳۸ ١٥ - كتاب الاستسقاء اور پیدا ہے جو کسی اور مخلوق کو حاصل نہیں ۔ آ : -- آیت اَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ملائكة الله بھی اتنا ہی جانتے ہیں جتنا اللہ تعالی علم دیتا ہے اور زمین و آسمان کے غیب کا ایک حصہ ان سے پوشیدہ ہے پیدائش انسان کی غرض یہ ہے کہ صفات الہیہ سے متعلق مخ متعلق مخفی امور کا انکشاف کرے او لشاف کرے اور وہ اپنا یہ فر وہ اپنا یہ فرض آہستہ آہستہ ادا کر رہا ہے۔ اس آیت کا فقرہ فَلَمَّا أَنْبَاهُمُ اسی راز کو آشکار کر رہا ہے کہ ایک وقت مقدر ہے جب انسان کے ذریعہ سے مشار الیہ مشیت الہی پوری ہوگی ۔ غرض محولہ بالائی کا تعلق حال سے ہے۔ اس کا یہ مفہوم نہیں کہ انسان کو غیب کی مذکورہ بالا پانچ باتوں کا علم نہیں دیا جائے گا کیونکہ ایسا مفہوم خلاف واقعہ ہے۔ ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ بذریعہ خواب یا کشف یا وحی وغیرہ انسان کو ان باتوں پر صحیح صحیح اطلاع مل جاتی ہے اور علم کے ذریعہ سے قدرت کے راز ہائے سربستہ منکشف کرنے پر اسے قدرت حاصل ہو رہی ہے۔ لي صلى الله قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ : عنوان باب میں حضرت ابو ہریرہ کی کی روایت کا جو حوالہ دیا دیا گیا ہے وہ کتاب الایمان باب ۳۷ روایت نمبر ۵۰ میں گذر چکی ہے ۔ امام بخاری نے عین مناسب موقع سے محولہ بالا حدیث کی طرف توجہ منعطف کی ہے تا اس کے غلط مفہوم سے بچایا جائے ۔ کیونکہ گذشتہ ابواب میں ایسی روایات گذر چکی ہیں جو علم غیب پر مشتمل ہیں ۔ 0000000000