صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 437
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۳۷ ١٥ - كتاب الاستسقاء ۱۰۳۹: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۱۰۳۹ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، کہا : قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارِ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبداللہ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی بن دینار سے، ابن دینار نے حضرت ابن عمرؓ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِفْتَاحُ الْغَيْبِ خَمْس لَا روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يَعْلَمُهَا إِلَّا اللهُ لَا يَعْلَمُ أَحَدٌ مَا يَكُوْنُ فِي نے فرمایا: غیب کی چابیاں پانچ ہیں؛ صرف اللہ غَدٍ وَلَا يَعْلَمُ أَحَدٌ مَا يَكُونُ فِي الْأَرْحَامِ انہیں جانتا ہے۔کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا اور وَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا کوئی نہیں جانتا ، رحموں میں کیا ہے اور کوئی جان نہیں تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضِ تَمُوْتُ وَمَا جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی يَدْرِي أَحَدٌ مَتَى يَجِيءُ الْمَطَرُ۔کہ وہ کس ملک میں مرے گی اور کوئی نہیں جانتا مینہ اطرافه: ٤٦٢٧ - ٤٦٩٧، ۷۷۸، ۷۳۷۹ کب بر سے گا۔تشريح۔لَا يَدْرِي مَتَى يَجِيءُ الْمَطَرُ إِلَّا الله: باوجود اسکے کہ علم بہت کچھ ترقی کر چکا ہے ار تغیرات ساویه کوقبل از وقت معلوم کرنے کے لئے بہتر سے بہتر آلات بھی ایجاد ہو چکے ہیں مگر ابھی تک انسان قادر نہیں ہو سکا کہ بارش کے متعلق یقینی طور پر کہہ سکے کہ وہ کب ہوگی؟ مطلق وقت کا پتہ ان سے لگ جاتا ہے۔زمانہ قدیم میں بادلوں کا رخ بجلی کی چمک دیکھ کر اور ہوا کی خنکی یا گرمی محسوس کر کے قیاس کیا جاتا تھا کہ عنقریب بارش ہوگی۔اب اس سے زیادہ ترقی ہوئی ہے اور آلات کے ذریعہ سے ان تغیرات سماویہ کا علم حاصل کر کے پتہ لگا لیا جاتا ہے جو سمندروں یا پہاڑوں میں بطور اسباب اولیٰ کے مینہ برسانے کے لئے کام کرتے ہیں مگر باوجود اس کے یقینی علم کی چابی انسان کو ابھی تک نہیں ملی۔اسی طرح علم جنین میں بھی اس کے معلومات ترقی کر رہے ہیں جو ابھی تک بہت ناقص ہیں مگر تین میدان اس کے لئے بالکل مقفل پڑے ہیں۔سوائے اس کے کہ وجدانی طور پر یا قیافہ سے یا خواب و کشف کے ذریعہ سے کسی پر کوئی بات ظاہر ہو جائے تو یہ الگ بات ہے۔قرآن مجید کی آیت اَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ اِنّى اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ (البقرہ:۳۴) { کیا میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ یقیناً میں ہی آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہوں اور میں وہ ( بھی ) جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ ( بھی ) جو تم چھپاتے ہو۔} سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی پیدائش میں منشاء الہی یہ بھی ہے کہ وہ زمین و آسمان کے بہت سے غیوب سے مطلع کیا جائے اور اس کے ذریعہ سے علم الہی اور قدرت الہی کا وہ انکشاف ہو جو پردہ غیب میں ہے۔انسان دنیا میں مستعطق و ناطق کی حیثیت رکھتا