صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 436 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 436

صحيح البخاري جلد ٢ ۴۳۶ ١٥ - كتاب الاستسقاء وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ (میرا) کافر۔سو جس نے کہا: ہم پر اللہ کے فضل اور رحم بالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ سے بارش ہوئی تو وہ میرا مومن ہے اور ستاروں کا منکر اور كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ جس نے کہا کہ فلاں فلاں ستارے کے فلاں فلاں جگہ آنے سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ میرا منکر ہے اور بِالْكَوْكَبِ۔اطرافه ٨٤٦ ٤١٤٧ ، ٠٧٥٠٣ ستاروں کا مومن۔تشریح : وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِبُونَ: محول بالا آیت کا ترجمہ ی ہے، اور تم ذریعہ معاش بناتے ہو اس بات کو کہ تم تکذیب کرتے ہو اور حضرت ابن عباس کی تفسیر کے مطابق اس کا ترجمہ یہ ہوگا: کیا تم یہ شکر کرتے ہو کہ تم جھٹلاتے ہو۔حضرت ابن عباس سے متعلق ایک روایت میں آیا ہے کہ وہ مذکورہ بالا آیت میں رِزْقَكُمْ کی بجائے شُكْرَ كُمُ پڑھا کرتے تھے مگر عنوان باب سے ظاہر ہے کہ امام موصوف کے نزدیک یہ ان کی قرآت نہیں بلکہ تفسیر آیت ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶۷۴) ورنہ قال کی جگہ قراً ہوتا اور سیاق کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ شُكْرَكُمْ رِزْقَكُمْ کا مفہوم ہے نہ کہ قرآت۔امام موصوف نے اس آیت کے ساتھ روایت نمبر ۱۰۳۸ نقل کر کے شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم پیش کی ہے اور اس اہم اصلاح کی طرف اشارہ کیا ہے جو آپ کے ذریعہ سے عربوں کے خیالات میں ہوئی۔عرب لوگ بارش وغیرہ تغیرات کو ستاروں کی تاثیرات کے ساتھ وابستہ سمجھتے اور اس لئے ان کی پرستش کرتے تھے۔روایت نمبر ۱۰۳۸ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لفظ کا فریا مومن اپنے مفہوم میں نسبتی ہے۔الگ مستقل اصطلاح نہیں ، یہ بعد کی وضع ہے۔ایک شخص کو ایک ہی وقت میں دو مختلف اعتباروں سے مومن اور کافر کہہ سکتے ہیں۔اس ں تعلق میں کتاب الایمان باب ۲۱ روایت نمبر ۲۹ کی تشریح بھی دیکھئے۔روایت ۱۰۳۷ میں فتنہ وفساد کے ظہور اور شیطانی گروہ کے نکلنے کی پیشگوئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے وہ مسیلمہ کذاب اور عبد اللہ بن سبا کے ذریعہ پوری ہوئی تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب الفتن باب ۱۶۔بَاب ۲۹ : لَا يَدْرِي مَتَى يَجِيءُ الْمَطَرُ إِلَّا الله کوئی نہیں جانتا کہ مینہ کب آئے گا مگر اللہ (عزوجل) وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اور حضرت ابو ہریرۃ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْس لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا الله سے مروی ہے: پانچ باتیں ہیں جنہیں کوئی نہیں جانتا مگر اللہ۔