صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 427
صحيح البخارى جلد ۲ ۴۲۷ ١٥ - كتاب الاستسقاء بَاب ۲۱ : رَفْعُ النَّاسِ أَيْدِيَهُمْ مَعَ الْإِمَامِ فِي الْإِسْتِسْقَاءِ لوگوں کا دعائے استسقاء میں امام کے ساتھ اپنے ہاتھ اُٹھانا ۱۰۲۹: قَالَ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ :۱۰۲۹ (اور ) ایوب بن سلیمان نے کہا: ابوبکر حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ بن ابي اولیس نے مجھے بتایا۔انہوں نے سلیمان بن سُلَيْمَانَ بْن بِلَالٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بلال سے روایت کی کہ یحی بن سعید نے کہا: میں سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ قَالَ أَتَى رَجُلٌ نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔انہوں نے کہا: أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ اہل بادیہ میں سے ایک بدوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ کے پاس جمعہ کے دن آیا اور اس نے کہا: یا رسول فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ هَلَكَتِ الْمَاشِيَةُ الله ! مویشی مرگئے، بال بچے ہلاک ہو گئے اور هَلَكَ الْعِيَالُ هَلَكَ النَّاسُ فَرَفَعَ رَسُوْلُ لوگ مرگئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ يَدْعُو کرنے کے لئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ مَعَهُ يَدْعُوْنَ قَالَ لوگوں نے بھی دعا کے لئے آپ کے ساتھ اپنے فَمَا خَرَجْنَا مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مُطِرْنَا ہاتھ اٹھائے۔حضرت انس کہتے تھے کہ ہم مسجد سے فَمَا زِلْنَا تُمْطَرُ حَتَّى كَانَتِ الْجُمُعَةُ نکلے نہیں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی اور دوسرے الْأُخْرَى فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔پھر وہی شخص نبی ہے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ کے پاس آیا۔اس نے کہا: یا رسول اللہ ! مسافر اللَّهِ بَشِقَ الْمُسَافِرُ وَمُنِعَ الطَّرِيْقُ اُکتا گئے، راستے رُک گئے۔بشق کے معنے ہیں بَشِقَ أَيْ مَل گھبرا گیا۔اطرافه ۹۳۲، ۹۳۳، ۱۰۱۳، ۱۰۱۴، ۱۰۱۵، ۱۰۱۶، ۱۰۱۷، ۱۰۱۸، ۱۰۱۹، ۱۰۲۱، ۱۰۳۳، ۳۵۸۲، ٦٠٩۳، ٦٣٤٢۔۱۰۳۰: وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنِي ۱۰۳۰: اور (عبدالعزیز ) اویسی نے کہا: محمد بن جعفر مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ نے كي بن سعید اور شریک سے روایت کرتے ہوئے الفاظ ”بَشِقَ أَى مَلَّ عمدة القاری کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری جزءے صفحہ ۵۱ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔