صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 428
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۲۸ ١٥ - كتاب الاستسقاء وَشَرِيْكِ سَمِعَا أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى مجھے بتایا۔ ان دونوں نے حضرت انس سے نبی صلی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى اللہ علیہ وسلم کی نسبت سنا کہ آپ نے اپنے دونوں رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ۔ ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی ۔ اطرافه: ۱۰۳۱، 3565، 6341۔ باب ۲۲ : رَفْعُ الْإِمَامِ يَدَهُ فِي الْاِسْتِسْقَاءِ امام کا دعائے استسقاء میں ہاتھ اٹھانا ۱۰۳۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۱۰۳۱ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) سیچی حَدَّثَنَا يَحْيَى وَابْنُ أَبِي عَدِيٌّ عَنْ بن سعید قطان ) اور (محمد بن ابراہیم ) بن ابی عدی نے سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید ( بن ابی عروبہ ) سے سعید نے قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی کہ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی دعا میں بھی اپنے فِي الْاِسْتِسْقَاءِ وَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يُرَى دونوں ہاتھ اتنے اونچے) نہیں اٹھایا کرتے تھے سوائے بَيَاضُ إِبْطَيْهِ۔ اطرافه: ۱۰۳۰، 3565، 6341۔ دعائے استقاء کے اور آپ یہاں تک انہیں اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی۔ تشريح : رَفْعُ النَّاسِ أَيْدِيَهُمْ مَعَ الْإِمَامِ فِي الاسْتِسْقَاءِ : اس باب کا عنوان بھی جملہ صدر یہ سے باندھا گیا ہے حالانکہ جمہور کے نزدیک اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ جب امام دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو لوگ بھی ہاتھ اٹھائیں اور ان کو دعا میں شریک ہونا چاہیے ۔ (بداية المجتهد۔ کتاب الصلاة الثاني۔ الباب السابع في الاستسقاء) امام بخاری نے عنوان جملہ مصدر یہ رکھنے میں احتیاط کا پہلو اس لئے اختیار کیا ہے کہ حضرت انس بن مالک کی روایت نمبر ۱۰۳۱ مندرجہ باب ۲۲ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گویا یہ ہاتھ اٹھانا دعائے استسقاء سے ہی مخصوص تھا۔ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الاسْتِسْقَاءِ لیکن بظاہر یہ واقعہ کے خلاف ہے کیونکہ کتاب الدعوات میں امام موصوف نے چند روایتیں نقل کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ دوسری دعاؤں میں بھی ہاتھ اٹھایا کرتے تھے اور اُس کتاب کے باب ۲۳ رفع الْأَيْدِي فِي الدُّعَاءِ میں اولیس اور شریک کی حضرت انس سے یہی روایت نقل کی گئی ہے اور یہاں روایت نمبر ۱۰۳۰ میں بھی