صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 428 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 428

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۲۸ ١٥ - كتاب الاستسقاء وَشَرِيْكِ سَمِعَا أَنسًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى مجھے بتایا۔ان دونوں نے حضرت انسؓ سے نبی صلی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى الله علیہ وسلم کی نسبت سنا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ۔اطرافه ۱۰۳۱، ٣٥٦٥، ٦٣٤١۔سفیدی دیکھی۔باب ۲۲: رَفْعُ الْإِمَامِ يَدَهُ فِي الْإِسْتِسْقَاءِ امام کا دعائے استسقاء میں ہاتھ اٹھانا ۱۰۳۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۱۰۳۱ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) تكي حَدَّثَنَا يَحْيَى وَابْنُ أَبِي عَدِيّ عَنْ ( بن سعيد قطان ) اور (محمد بن ابراہیم ) بن ابی عدی نے سَعِيْدِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید ( بن ابی عروبہ) سے سعید نے قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی کہ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی دعا میں بھی اپنے الْإِسْتِسْقَاءِ وَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يُرَى دونوں ہاتھ اتنے اونچے ) نہیں اٹھایا کرتے تھے سوائے دعائے استسقاء کے اور آپ یہاں تک انہیں اٹھاتے کہ آپ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ۔اطرافه ۱۰۳۰، ٣٥٦٥، ٦٣٤١۔کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی۔تشريح : رَفْعُ النَّاسِ أَيْدِيَهُمْ مَعَ الْإِمَامِ فِي الْإِسْتِسْقَاءِ : اس باب کا عنوان بھی جملہ مصدر یہ سے باندھا گیا ہے حالانکہ جمہور کے نزدیک اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ جب امام دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو لوگ بھی ہاتھ اٹھا ئیں اور ان کو دعا میں شریک ہونا چاہیے۔(بداية المجتهد، کتاب الصلاة الثاني۔الباب السابع في الاستسقاء) امام بخاری نے عنوان جملہ مصدر یہ رکھنے میں احتیاط کا پہلو اس لئے اختیار کیا ہے کہ حضرت انس بن مالک کی روایت نمبر ۱۰۳۱ مندرجہ باب ۲۲ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گویا یہ ہاتھ اٹھانا دعائے استقاء سے ہی مخصوص تھا۔كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الْإِسْتِسْقَاءِ لیکن بظاہر یہ واقعہ کے خلاف ہے کیونکہ کتاب الدعوات میں امام موصوف نے چند روایتیں نقل کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ دوسری دعاؤں میں بھی ہاتھ اٹھایا کرتے تھے اور اس کتاب کے باب ۲۳ رفع الْأَيْدِي فِي الدُّعَاء میں اویس اور شریک کی حضرت انس سے یہی روایت نقل کی گئی ہے اور یہاں روایت نمبر ۱۳۰ میں بھی