صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 426 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 426

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۲۶ باب ۲۰ : اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ فِي الْإِسْتِسْقَاءِ نماز استسقاء میں قبلے کی طرف منہ کرنا ١٥ - كتاب الاستسقاء ۱۰۲۸ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا :۱۰۲۸ محمد بن سلام بیکندی) نے ہم سے بیان عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ کیا، کہا: عبدالوہاب (ثقفی) نے ہمیں بتایا۔انہوں سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ نے کہا کہ یحی بن سعید (انصاری) نے ہم سے بیان أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ کیا، کہا: ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم) نے مجھے زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى بتایا۔عباد بن تمیم نے انہیں خبر دی۔حضرت عبداللہ بن اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى زيد انصاری نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي وَأَنَّهُ لَمَّا دَعَا أَوْ أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عیدگاہ کی طرف نماز کے لئے نکلے اور آپ نے جب اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ دعا کی یا دعا کرنا چاہی تو آپ نے قبلہ کی طرف منہ کیا اور اپنی چادر اُلٹائی۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : ابْنُ زَيْدٍ هَذَا مَازِنِي ابو عبد الله نے کہا: یہ (حضرت عبد اللہ بن زید مازنی وَالْأَوَّلُ كُوفِي هُوَ ابْنُ يَزِيدَ۔ہیں اور پہلے کوئی جو یزید کے بیٹے ہیں۔اطرافه ،۱۰۰۵، ۱۰۱۱، ۱۰۱۲، ۱۰۲۳، ۱۰۲٤، ۱۰۲۵، ۱۰۲۶، ۱۰۲۷، ٦٣٤٣۔تشریح: اِسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ فِى الْاِسْتِسْقَاءِ: اس باب کا معنونہ مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے کیونکہ روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے بغیر قبلہ رخ ہونے کے دعائے استسقاء کی۔( باب کے روایت ۱۰۱۴) گزشتہ باب کی تشریح میں ایسی روایات کے حوالے دیئے جاچکے ہیں جو مختلف سندوں سے مروی ہیں اور نفس مضمون میں اختصار وبسط اور اجمال و تفصیل وجذت ہے اور وہ مضمون میں متقارب و متفق ہیں۔جس سے ان کی صحت اور ثقہ ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔امام بخاری کی اس کتاب کی یہ وہ خصوصیت ہے جس نے اسے اصح الکتب بعد کتاب اللہ قرار دیا ہے۔تکرار روایت میں کئی باتیں ملحوظ ہیں۔تجرید سے یہ امتیاز ختم ہو جاتا ہے۔وَالاَوَّلُ كُوفِى هُوَ ابْنُ يَزِيدَ : وَالْاَوَّل سے مراد عبداللہ بن یزید ہیں جن کا ذکر باب نمبر ۱۵ روایت نمبر ۱۰۲۲ میں ہے۔