صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 421 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 421

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵ - كتاب الاستسقاء النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ہو رہی تھی اور آئندہ جمعہ تک ہوتی رہی۔جب نبی صلی اللہ صَاحُوْا إِلَيْهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے تو لوگ پھر آپ کے وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللهَ يَحْبِسْهَا سامنے چلائے۔گھر گر گئے اور راستے کٹ گئے۔اس لئے عَنَّا فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بارش روک لے۔ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور کہا: اے اللہ ! فَكَشَطَتِ الْمَدِينَةُ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ ہمارے گردا گرد بر سے ہم پر نہ برسے۔مدینہ سے (بادل) حَوْلَهَا وَلَا تُمْطِرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةٌ پھٹ گئے اور اردگرد بارش ہونے لگی۔مدینہ میں ایک قطرہ فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْل بھی نہیں برستا تھا۔میں نے مدینہ کو دیکھا۔یوں معلوم ہوتا کہ وہ ( چاروں طرف پانی کی وجہ سے ) تاج جیسی چیز میں الإكليل۔رکھا ہوا ہے۔اطرافه ۹۳۲، ۹۳۳، ۱۰۱۳، ۱۰۱٤ ، ۱۵ ۱۰، ۱۸،۱۰۱۷،۱۰۱٦ تشریح: ٦٣٤٢،٦۰۹۳ ،۳۵۸۲ ،۱۰۳۳ ،۱۰۲۹ ،۱۰۱۹ ،۱ 靡 حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا : اپنی دعاؤں میں انسان ادب ملحوظ ر کھے۔بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور اگر وہ خود اس کا محتاج نہیں رہا تو اس کے سوا اور بہت سے لوگ ہیں جو اس کے محتاج ہوں گے۔اس لئے رحمت کا دروازہ دوسروں کے لئے کھلا رہنے کی درخواست کرنی چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وجہ سے مدینہ میں بارش بند ہونے کی دعا کے ساتھ اردگرد بارش جاری رہنے کی دعا بھی کی۔باب ١٥ : الدُّعَاءُ فِي الْإِسْتِسْقَاءِ قَائِمًا نماز استسقاء میں کھڑے ہو کر دعا کرنا :۱۰۲۲: وَقَالَ لَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ ۱۰۲۲ اور ابو نعیم نے ہمیں بتایا اور انہوں نے زہیر زُهَيْرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ سے، زہیر نے ابو الحق سے روایت کی کہ ( انہوں نے بْنُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ وَخَرَجَ مَعَهُ الْبَرَاءُ کہا : حضرت عبد اللہ بن یزید انصاری نکلے اور ان کے بْنُ عَازِبٍ وَزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ ساتھ حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی عَنْهُمْ فَاسْتَسْقَى فَقَامَ بِهِمْ عَلَى رِجْلَيْهِ الله عنہم بھی نکلے۔انہوں نے بارش کے لئے دعا کی۔وہ۔