صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 420 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 420

صحيح البخاری جلد ۲ صلى الله ۴۳۰ ۱۵ - كتاب الاستسقاء کتاب الدلائل میں عمرو بن مرہ کی سند سے حضرت کعب بن مرہ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے: قَالَ دَعَا رَسُولُ اللهِ الله عَلَى مُضَرَ فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ ادْعُ لِقَوْمِكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا۔۔۔ابن ماجہ میں بھی اسی رادی سے یہی روایت ہے مگر اس میں ابوسفیان کا ذکر نہیں۔اس روایت میں یہ الفاظ ہیں: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَسْقِ اللهَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ ع يَدَيْهِ فَقَالَ : اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْنًا مَرِيئًا۔۔۔۔۔(ابن ماجه۔كتاب اقامة الصلوات، باب ما جاء في الدعاء في الاستسقاء) سندوں اور راویوں کے اختلاف کے باوجود ان روایتوں کے الفاظ بلحاظ مفہوم ایک ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو سفیان اور حضرت کعب بن مرہ مع چند اور لوگوں کے مدینہ میں پہنچے اور ان دونوں نے آپ سے درخواست کی اور خطبہ جمعہ کے وقت ایک دیہاتی نے آپ سے درخواست کی ، جیسا کہ ابوسفیان وغیرہ نے بھی، جس پر آپ نے دعا کی۔( روایت نمبر ۱۰۱۶، ۱۰۱۷) پس اسباط بن محمد کا منصور سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ دونوں واقعات اکٹھے بیان کرنا قابل اعتراض نہیں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۲۶۰،۶۵۹) باب ١٤ : الدُّعَاءُ إِذَا كَثُرَ الْمَطَرُ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا جب بارش زیادہ ہو تو یہ دعا کرنا ہمارے اردگرد بر سے ہم پر نہ برسے اور ۱۰۲۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي :۱۰۲۱ محمد بن ابی بکر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ مُعتمر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ (عمری) سے، ثَابِتٍ عَنْ أَنَس قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى عبد اللہ نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس سے انسؓ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ جُمُعَةٍ روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے فَقَامَ النَّاسُ فَصَاحُوْا فَقَالُوْا يَا رَسُوْلَ دن (لوگوں سے ) مخاطب تھے تو لوگ کھڑے ہو گئے اور اللهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّتِ الشَّجَرُ چلائے اور کہا: یا رسول اللہ ! بارش نہیں ہوتی اور درخت وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ فَادْعُ اللهَ يَسْقِيْنَا پہلے ہو گئے اور جانور تباہ ہو گئے۔آپ اللہ سے دعا کریں فَقَالَ اللَّهُمَّ اسْقِنَا مَرَّتَيْن وَايْمُ اللهِ مَا کہ ہم پر بارش برسائے۔آپ نے دعا کی۔اے اللہ! نَرَى فِي السَّمَاءِ قَرَعَةً مِنْ سَحَابِ ہمیں پانی پلا۔دو دفعہ ( آپ نے یہ کہا ) اور اللہ کی قسم ہم فَنَشَأَتْ سَحَابَةٌ وَأَمْطَرَتْ وَنَزَلَ عَن آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دیکھتے تھے کہ اتنے الْمِنْبَرِ فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ لَمْ تَزَلْ میں ایک بدلی اٹھی اور برسنے لگی۔آپ منبر سے اتر آئے تُمْطِرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيْهَا فَلَمَّا قَامَ اور نماز پڑھی۔جب نماز سے فارغ ہو گئے تو بارش برابر