صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 419
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۱۹ ۱۵ - كتاب الاستسقاء عَنْ رَأْسِهِ فَسُقُوْا النَّاسُ حَوْلَهُمْ۔ہم پر نہ ہوتو بدلی آپ کے سرسے پھٹ گئی اور ان کے اردگرد لوگوں پر بارش ہونے لگی۔طرافه ۱۰۰۷، ٤٦٩٣ ٤٧٦٧، ٤٧٧٤، ۴۸۰۹، ٤۸۲۰، ٤٨٢١ ٤٨٢٢، ٤٨٢٣، ٤٨٢٤، ٤٨٢٥ تشریح: إِذَا اسْتَشْفَعَ الْمُشْرِكُونَ : اگر چہ قحط اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کی سزا ہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ دعاؤں کے ذریعہ سے یہ سزا ہٹانے کی کوشش نہ کی جائے۔اسلام اس امر میں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ممانعت ہو جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا: وَلَا تُخَاطِبُنِى فِى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (ہود: ۳۸) تو ظالموں کے بارے میں مجھے مخاطب نہ کر۔وہ غرق کئے جائیں گے۔ابوسفیان نے صلہ رحمی اور کریمانہ اخلاق کا واسطہ دیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا اس سے پتہ چلتا ہے کہ دشمنان ایمان و جان اور عزت و آبرو گھبرا کر دعا کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے ان کے لئے دعا کی۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خود آپ کے دشمنوں کو بھی آپ کے کریمانہ اخلاق پر اعتماد تھا کہ ان کی درخواست رق نہ ہوگی اور یہ کہ آپ کی دعا قبول ہوگی۔امام بخاری نے روایت نمبر ۱۰۲۰ میں ابو سفیان کی درخواست دعا کا واقعہ اور سات دن کی متواتر بارش کا واقعہ اکٹھا کر دیا ہے۔اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ الگ الگ واقعات ہیں مگر یہ اعتراض صحیح نہیں۔روایت نمبر ۱۰۰۶ میں گزر چکا ہے کہ آپ نے قبیلہ مضر کے لئے بددعا کی اور روایت نمبر ۱۰۰۷ میں ذکر ہے کہ ابوسفیان نے آپ سے دعا کی درخواست کی۔قحط اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب آپ مکہ میں تھے اور قبیلہ مضر کے لوگ اس میں سب سے زیادہ ہلاک ہوئے۔دیکھئے روایت ابو معاویہ اور کتاب التفسیر صحیح بخاری تفسیر سورۃ الدخان روایت نمبر ۴۸۲۱۔اس وقت ابو سفیان مع چند اور لوگوں کے آپ کے پاس مدینہ میں آئے۔اس دفعہ ان میں حضرت کعب بن مرہ بھی تھے جیسا کہ امام احمد بن حنبل اور حاکم نے عمرو بن مرہ کی سند سے حضرت کعب کی یہ روایت نقل کی ہے: قَالَ دَعَا رَسُولُ اللهِ ﷺ عَلَى مُضَرَ فَاتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَارَسُوْلَ اللهِ إِنَّ اللهَ قَدْ نَصَرَكَ وَاعْطَاكَ وَاسْتَجَابَ لَكَ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا ( مسند احمد بن حنبل جزء ۴۶ صفحه ۲۳۵) (المستدرك على الصحيحين، كتاب الاستسقاء، باب دعـا الاستسقاء وصلاته) حضرت کعب نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصر پر بددعا کی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ نے آپ کی نصرت فرمائی اور آپ کو عطا کیا جو آپ نے طلب کیا اور آپ کی دعائیں قبول کیں۔آپ کی قوم ہلاک ہوگئی ہے۔بخاری کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِىءُ فَاسْتَسْقَى لَهُمْ فَسُقُوا۔(روایت نمبر ۴۸۲۱) آپ نے فرمایا: کیا مضر کے لئے ؟ تم تو بڑے جری ہو۔چنانچہ آپ نے بارش کے لئے دعا کی اور ان کے لئے برسائی گئی۔عمرو بن مرہ کی محولہ بالا روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ جب بارش بہت ہوگئی تو دوسرے جمعہ آپ نے فرمایا: اللهم حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا ( مسند احمد بن حنبل جزء پہ صفحہ ۲۳۶) یعنی اے اللہ بارش ہمارے اردگرد ہو، ہم پر نہ ہو۔اسی طرح بیہقی کی