صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 418 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 418

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۱۸ ۱۵ - كتاب الاستسقاء بَاب ۱۳ : إِذَا اسْتَشْفَعَ الْمُشْرِكُوْنَ بِالْمُسْلِمِينَ عِنْدَ الْقَحْطِ اگر مشترک مسلمانوں سے قحط کے وقت دعا چاہیں ۱۰۲۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۱۰۲۰: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ وَالْأَعْمَشِ (ثوری) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: منصور اور اعمش نے سے عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَّسْرُوقٍ قَالَ ابوالضحیٰ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ مسروق أَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُوْدٍ فَقَالَ إِنَّ قُرَيْشًا مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں حضرت ابن مسعودؓ کے پاس أَبْطَبُوا عَنِ الْإِسْلَامِ فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ گیا تو انہوں نے کہا: قریش نے اسلام قبول کرنے میں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ توقف کیا ۔ بی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف دعا کی تو حَتَّى هَلَكُوا فِيْهَا وَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ قحط سالی نے انہیں ایسا پکڑا کہ وہ اس میں ہلاک ہو گئے اور وَالْعِظَامَ فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا انہوں نے مردے اور ہڈیاں کھائیں۔ ابوسفیان آپ کے مُحَمَّدُ جِئْتَ تَأْمُرُ بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ پاس آئے اور انہوں نے کہا: اے محمد: آپ تو صلہ رحی کا کم قَوْمَكَ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ فَقَرَأَ : کرنے کے لئے آئے ہیں اور حالت یہ ہے کہ آپ کی قوم ہلاک ہو گئی ہے۔ اللہ (عزوجل) سے دعا مانگیں۔ آپ نے فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ یہ آیت پڑھی: فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ (الدخان: ۱۱) ثُمَّ عَادُوا إِلَى مبین (خیر آپ نے دعا کی اور بارش ہوئی۔ قحط جاتا رہا۔ ) كُفْرِهِمْ روه رِهِمْ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : يَوْمَ تَبْطِشُ م پھر وہ ویسے منکر ہوگئے جیسا کہ للہ تعالٰ نے فرمایا تھا: الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى (الدخان: ۱۷) يَوْمَ بَدْرٍ (یعنی) جس دن ہم بہت بڑی گرفت کریں گے یعنی بدر کے قَالَ وَزَادَ أَسْبَاطُ عَنْ مَّنْصُورٍ فَدَعَا دن۔ (ابو عبد اللہ نے) کہا: اور اسباط (بن محمد ) نے منصور رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کرتے ہوئے یہ بات زائد کہی کہ رسول اللہ فَسُقُوا الْغَيْثَ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ سَبْعًا صلى اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر بارش ہوئی اور سات وَشَكَا النَّاسُ كَثْرَةَ الْمَطَرِ فَقَالَ اللَّهُمَّ روز تک بادل ان پر چھایا رہا اور لوگوں نے کثرت باراں کی حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَانْحَدَرَتِ السَّحَابَةُ شکایت کی تو آپ نے فرمایا: اے اللہ ہمارے آس پاس ہو