صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 27
البخاری جلد ۲ ۲۷ ١٠ - كتاب الأذان تشریح: بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلوةٌ : دواز انوں سے مراد اذ ان اور اقامت ہے۔جیسا کہ روایت نمبر ۶۲۴ کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے اور بعض روایتوں میں بَيْنَ الآذَانِ وَالْإِقَامَةِ اور بَيْنَ البَدَاءِ وَالْإِقَامَةِ کے الفاظ ہیں۔صبح سے پہلے دو نفل رکھتیں ایسی ہیں کہ جن کی نسبت احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپ وہ ضرور پڑھا کرتے تھے کے اور ان کے متعلق ترغیب بھی دی اور آپ نے قضاء ہونے پر سورج نکلنے کے بعد بھی وہ پڑھی ہیں۔(مسلم کتاب المساجد - باب قضاء الصلوة الفائتة باقى نوافل کے متعلق آپ کا عمل درآمد مختلف تھا۔امام مالک و شافعی نے دن رات کے نوافل سے متعلق یہی رائے قائم کی ہے کہ دو دور کعتیں پڑھی جائیں اور امام ابوحنیفہ نے کوئی تعیین نہیں کی ، خواہ دو پڑھی جائیں یا چار۔( بداية المجتهد - كتاب الصلوة الثانى - الباب الثالث في النوافل) مغرب سے پہلے نفل پڑھنے کی بابت اختلاف ہوا ہے۔روایت نمبر ۶۲۵ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ مغرب کی اذان پر دور کعتیں پڑھا کرتے تھے۔اس کی وجہ یہی حدیث معلوم ہوتی ہے۔یعنی بَيْنَ كُلِّ أَذَانَينِ صَلوةٌ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ثابت نہیں کہ آپ نے یہ فل بھی پڑھے ہوں۔(فتح الباري في شرح الحديث ۶۲۵ - جزء ثانی - صفحه ۱۳۲) بَاب ۱۷ : مَنْ قَالَ: لِيُؤَذِنْ فِي السَّفَرِ مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ جس نے کہا: سفر میں ایک ہی مؤذن اذان دے ٦٢٨ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ قَالَ :۶۲۸ معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي وُہیب نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے ایوب سے، قلَابَةَ عَنْ مَّالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ أَتَيْتُ ايوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے مالک بن حویرث سے روایت کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِّنْ کے پاس اپنی قوم کے چند آدمیوں کے ساتھ آیا اور قَوْمِي فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِيْنَ لَيْلَةً وَّكَانَ ہم آپ کے پاس ہیں راتیں رہے اور آپ بہت رَحِيْمًا رَّفِيْقًا فَلَمَّا رَأَى شَوْقَنَا إِلَى مہربان اور نرم دل تھے۔جب آپ نے دیکھا کہ (ترمذی کكتاب الصلوة - باب ما جاء في الصلوة قبل المغرب ) (بخاری - كتاب الاذان - باب الاذان بعد الفجر - روایت نمبر ۶۱۹ )