صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 28
البخاری جلد ۲ ۲۸ ١٠ - كتاب الأذان أَهَالِيْنَا قَالَ ارْجِعُوا فَكُوْنُوْا فِيْهِمْ ہمیں اپنے گھر والوں سے ملنے کی خواہش ہے تو آپ تو وَعَلِمُوْهُمْ وَصَلُّوْا فَإِذَا حَضَرَتِ نے فرمایا: واپس جاؤ اور ان میں رہو۔انہیں تعلیم دو الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ اور نماز پڑھو اور جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ۔ایک تمہارے لئے اذان دے اور چاہیے کہ تم میں سے بڑا تمہارا امام ہو۔اطرافه ٦٣٠، ٦٣١ ٦٨٥٦٥٨، ۸۱۹، ۲۸٤۸، ٦٠٠٨، ٧٢٤٦۔تشریح: لِيُؤَذِّنُ فِي السَّفَرِ مُؤذِنْ وَّاحِدٌ : مشار اليه قول مسند عبد الرزاق میں مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے سفر میں صبح کی دو اذانیں دلوائیں۔(مصنف عبد الرزاق، كتاب الصلوۃ، باب الاذان في السفر، جزء اول صفحه ۴۹۲ ، روایت نمبر ۱۸۹۷) روایت مندرجہ باب سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں سفر و حضر کی اذان میں فرق نہیں کیا گیا۔مشار الیہا روایت مصنف عبدالرزاق، امام بخاری کی شرائط کے مطابق نہیں۔سفر میں اگر حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے دو دفعہ اذان دلوائی ہے تو اہل قافلہ کے متفرق ڈیروں کی وجہ سے دلوائی ہوگی۔اسی طرح اگر مسجد میں ہو تو ایک وقت میں ہر مینار پر مؤذن اذان دے سکتا ہے۔امام شافعی کے نزدیک پسندیدہ امر یہ ہے کہ مؤذن ایسی صورت میں یکے بعد دیگرے اذان دیں۔( فتح الباری جزء ثانی - صفحہ ۱۴۵) (عمدۃ القاری - جزء۵- صفحه ۱۴۲) امام بخاری نے جملہ موصولہ نامکمل رہنے دیا ہے۔ایک یا ایک سے زیادہ مؤذنوں کا ایک وقت میں اکٹھے یا الگ الگ اذان دینا حالات سے تعلق رکھتا ہے۔بَاب ۱۸ : الْأَذَانُ لِلْمُسَافِرِيْنَ إِذَا كَانُوْا جَمَاعَةً وَالْإِقَامَةُ مسافروں کے لئے اذان دینا اور اقامت کہنا جب وہ جماعت ہوں وَكَذَلِكَ بِعَرَفَةَ وَجَمْعِ وَقَوْلُ اور ایسا ہی عرفہ اور مزدلفہ میں بھی۔اور مؤ ڈن کا ٹھنڈی الْمُؤَذِنِ: اَلصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ فِي يا بارش والی رات میں یہ کہنا کہ نماز اپنی اپنی جگہوں پر اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ أَوِ الْمَطِيْرَةِ۔پڑھ لی جائے۔٦٢٩: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۶۲۹ مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُهَاجِرِ أَبِي شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مہاجر ابوحسن سے،