صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 26 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 26

البخاری جلد ۲ ۲۶ ١٠ - كتاب الأذان صَلَاةِ الْفَجْرِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ کھڑے ہو جاتے۔نماز فجر سے پہلے صبح پوری طرح خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ بَعْدَ أَنْ ظاہر ہو جانے کے بعد ہلکی سی دورکعتیں پڑھتے۔پھر يَسْتَبِيْنَ الْفَجْرُ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ آپ اپنی دائیں کروٹ لیٹ جاتے۔یہاں تک کہ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ۔مؤذن اقامت کے لئے آپ کے پاس آتا۔اطرافه ٩٩٤، ۱۱۲۳، ۱۱۶۰، ۱۱۷۰، ۶۳۱۰ تشریح: مَنِ انْتَظَرَ الْإِقَامَةَ : عنوانِ باب میں الفاظ مَنِ انْتَظَرَ الْإِقَامَةَ سے مستقل باب قائم کر کے امام موصوف نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سابقہ باب میں مَن يَنتَظِرُ الْإِقَامَةَ سے ان کی کچھ اور غرض تھی۔اس ضمن میں جو روایت لائی گئی ہے اس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ وہ روایتیں جن میں اذان اور اقامت کے درمیان اندازہ بتایا گیا ہے کمزور ہیں۔فجر کی اذان کے بعد آپ دور کعتیں پڑھ کر لیٹ جاتے تھے۔اس سے ایک غرض تو یہ تھی کہ کچھ آرام فرمائیں۔کیونکہ تہجد کی نماز میں دیر تک مشغول رہنے سے گونہ کوفت ہوتی اور دوسری غرض یہ تھی کہ لوگ اکٹھے ہو جائیں۔چنانچہ بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ مسجد میں تشریف لائے اور نمازی تھوڑے تھے تو آپ بیٹھ گئے اور نمازیوں کا انتظار فرمایا۔(سنن الكبرى للبيهقي، ابواب صفة الصلوة، باب الإمام يخرج فإن رأى الجماعة اقام الصلوة والا جلس حتى يرى منهم جماعة اذا كان في الوقت سعة) تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جز ، ثانی صفحہ ۱۴۴۔باب ١٦ : بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ دواذانوں کے درمیان نماز ہے اس شخص کے لئے جو ( پڑھنی ) چاہے ٦٢٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ :۶۲۷: عبداللہ بن یزید نے ہم سے بیان کیا ، کہا: حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ كمس بن حسن نے ہمیں بتایا۔کہمس نے عبد اللہ بن اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلِ قَالَ بریدہ سے، ابن بریدہ نے حضرت عبداللہ بن مغفل قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم كُلّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْن نے فرمایا: دواذانوں کے درمیان نماز ہے۔دو صَلَاةٌ ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَاءَ۔اذانوں کے درمیان نماز ہے۔پھر تیسری بار آپ نے فرمایا: اس کے لیے جو ( پڑھنی) چاہے۔اطرافه: ٦٢٤۔