صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 404 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 404

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵ - كتاب الاستسقاء دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِرَاماً (الفرقان: ۷۸) تو کہہ دے کہ اگر تمہاری دعانہ ہوتی تو میرا رب تمہاری کوئی پرواہ نہ کرتا۔پس تم اسے جھٹلا چکے ہو سوضرور اس کا وبال تم سے چمٹ جانے والا ہے۔یہ دونوں سورتیں بھی درمیانی زمانہ کی میں نازل ہوئی تھیں۔غرض چاروں مذکورہ بالا پیشگوئیاں مکہ میں ایسے وقت میں کی گئی تھیں کہ جب مسلمان انتہائی درجہ کی کمزوری اور بے بسی میں تھے اور وہ پیشگوئیاں خارق عادت طریق سے پوری ہوئیں۔روم کی پیشگوئی سے متعلق دیکھئے کتاب التفسیر سورۃ الدخان روایت نمبر ۴۸۲۰ اور جنگ بدر اور فتح مکہ سے متعلق دیکھئے کتاب المغازی زیرا بواب نمبر ۳ و نمبر ۵ و باب ۴۷ غزوۃ الفتح بَاب : سُؤَالُ النَّاسِ الْإِمَامَ الْإِسْتِسْقَاءَ إِذَا قَحَطُوْا لوگوں کا امام سے مینہ کے لیے دعا مانگنے کی درخواست کرنا جب وہ قحط میں مبتلا ہوں ۱۰۰۸: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ :۱۰۰۸ عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ ابوقیہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا : الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِيْهِ عبد الرحمن بن عبد اللہ بن دینار نے ہمیں بتایا۔ان قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَتَمَنَّلُ بِشِعْرِ أَبِي کے باپ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے طَالِبٍ حضرت ابن عمرؓ کو ابو طالب کا یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا: وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ اور وہ خوبرو جس کے منہ کے طفیل مینہ برسایا جاتا ہے لِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِل جو تیموں کی پناہ اور بیواؤں کی ڈھارس ہے اطرافه: ۱۰۰۹۔۱۰۰۹: وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ :۱۰۰۹ اور عمر بن حمزہ کہتے تھے : سالم نے ہمیں بتایا حَدَّثَنَا سَالِمٌ عَنْ أَبِيْهِ رُبَّمَا ذَكَرْتُ کہ ان کے باپ سے مروی ہے کہ بسا اوقات میں قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ کہنے والے کا یہ قول یاد کرتا اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي فَمَا کے چہرہ کو دیکھتا۔جبکہ آپ برسات کے لئے يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيْشَ كُلُّ مِيْزَابٍ دعا کرتے۔آپ ( منبر سے ) نہ اتر تے تا وقتیکہ پرنالے زور سے بہنے نہ لگ جاتے۔