صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 405
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۰۵ ۱۵ - كتاب الاستسقاء وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ اور وہ خوبرو جس کے منہ کے طفیل مینہ برسایا جاتا ہے ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِل جو یتیموں کی پناہ اور بیواؤں کی ڈھارس ہے اور یہ ابوطالب کا شعر ہے۔وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ۔اطرافه: ۱۰۰۸۔١ : حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ ۱۰۱۰ حسن بن محمد نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا : ) محمد بن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ عبد الله بن ثنی ) انصاری نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى کہا: مجھے میرے باپ عبد اللہ بن مثنیٰ نے بتایا۔انہوں نے عَنْ تُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے، تمامہ نے حضرت انس (بن أَنَس أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ مالک) سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عَنْهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوْا اسْتَسْقَى ( کے زمانہ میں ) جب لوگوں میں قحط پڑتا تو حضرت عباس بِالْعَبَّاسِ بْن عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ بن عبد المطلب (رضی اللہ عنہ ) کے وسیلہ سے بارش کی دعا إِنَّا كُنَّا نَتَوَكَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيْنَا فَتَسْقِيْنَا کرتے اور کہتے: اے اللہ ! ہم تجھ تک اپنے وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمَ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ في ( صلى اللہ علیہ وسلم ) کے وسیلہ سے پہنچا کرتے تھے اور تو ہمیں پانی پلاتا تھا۔اب ہم اپنے نبی کے چچا کے وسیلہ سے تجھے فَيُسْقَوْنَ اطرافه ۳۷۱۰ تشریح: تک پہنچتے ہیں۔ہمارے لئے مینہ برسا اور ہمیں پانی پلا۔راوی کہتا تھا۔ان کے لئے برسایا جاتا تھا۔إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا : روایت نمبر ۱۰۱۰ میں حضرت عباس ابن عبدالمطلب کے وسیلہ سے دعا کرنے کا جو ذکر آتا ہے، امام بخاری نے باب نمبر ۳ کے عنوان میں اس کی وضاحت کر دی ہے یعنی یہ کہ ان کو امام دعا بنایا جاتا تھا۔وہ آگے کھڑے ہو کر دعا کیا کرتے تھے۔الفاظ اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا سے بھی یہی مراد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست دعا کی جاتی اور آپ دعا کرتے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ دعا کرتے۔ان معنوں میں یہاں وسیلہ مراد نہیں جو آج کل مشہور ہیں جو سراسر شرک ہے۔صحابہ کا اور خصوصا حضرت عمر جیسے موحد صحابی کا یہ قطعا اعتقاد نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی سنتا نہیں، اس لئے حضرت عباس کا واسطہ دے کر اس سے مانگا جائے۔چونکہ نماز استسقاء کے لئے کسی نہ کسی کو امام بنانا تھا اس لئے حضرت عباس بوجہ قرابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم امام