صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 403
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۰۳ ۱۵ - كتاب الاستسقاء اپنے وقت پر قبول ہوئیں۔امام موصوف نے ان دعاؤں کو جمع کر کے ایک لطیف تمہید قائم کی ہے جس کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں سے ہے جو خارق عادت طور پر قبول ہوئیں۔ایجابی اور سلبی دونوں طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ حضرت عیاش بن ابی ربیعہ مصیبت سے رہائی پائیں اور انہوں نے رہائی پائی اور آپ نے دعا کی کہ قبیلہ مصر کو لتاڑ اور اس کو ہلاک کر اور یہ قبیلہ قحط سالی سے بری طرح ہلاک ہوا۔آپ نے دعا کی کہ قحط پڑے اور وہ پڑا۔پھر آپ نے دعا کی: قحط ہٹ جائے اور وہ ہٹ گیا۔یہ ایجابی اور سلبی دعاؤں کی قبولیت بتاتی ہے کہ مذکورہ بالا واقعات اتفاقی نہ تھے۔کامل قدرت یہ ہے کہ انہونی کو کہے ہو اور وہ ہو جائے اور ہونی کو کہے نہ ہو اور وہ نہ ہو۔مثلاً اولا د ہوتی ہے تو کہے کہ نہ ہو اور ابتر رہے یا اولاد نہ ہوتی ہو اور کہے اولاد ہو اور ہو جائے تو ہم کہیں گے کہ فلاں دعا کرنے والے کی دعا مشیت الہی کی قادرانہ تجلی سے قبول ہوئی ہے۔یہ مقام استجابت ایک خاص مقام ہے جو اولیاء اللہ کے لئے مخصوص ہے۔اس ایجابی اور سلبی شہادت کی طرف توجہ دلانے کے لئے باب ۲ قائم کر کے روایت نمبر ۶ ۱۰۰، ۰۰۷ نقل کی گئی ہے۔غِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ : روایت نمبر ۱۰۰۶ میں غفار اور اسلم کے لئے جس دعا کا ذکر ہے وہ بھی اپنے اندر ایک خارق عادت صورت رکھتی ہے۔قبیلہ غفار بہت پہلے اسلام لا چکا تھا اور قبیلہ اسلم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مصالحت کی تھی۔آپ نے ان کے لئے دعا کی اور یہ دونوں قبیلے قحط کی مصیبت سے بچے رہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۶۳۶) فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَان مُبِينِ : آیت محولہ بالا سورہ دخان کی ہے، جس میں قحط کی پیشگوئی کا ذکر ہے۔یہ سورۃ درمیانی کی زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔(الدر المنثور تفسير سورة الدخان) ہجرت سے پہلے قحط شروع ہو گیا تھا۔قرین قیاس ہے کہ کی زمانہ کے آخر یا ابتدائی مدنی زمانہ میں ابوسفیان آپ کے پاس آئے ہوں گے کیونکہ قحط کے ہٹائے جانے کا جو وعدہ اس آیت میں ہے، اسی کے ساتھ کفار قریش کے دوبارہ سرکشی کرنے اور پھر ایک بڑے عذاب یعنی جنگ بدر میں گرفتار ہونے کی پیشگوئی ہے۔فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانِ مُّبِينٍ يُغْشَى النَّاسَ هذَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ۔۔۔۔۔إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَا لِدُونَ۔يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ۔(الدخان: ۱۱ تا ۱۷) سو انتظار کر اس دن کا جب آسمان کھلا کھلا دھواں لائے گا۔( کہیں گے ) یہ تو دردناک عذاب ہے۔اے رب ہمارے یہ عذاب ہم سے ہٹا دے ہم مومن ہیں۔( فرمائے گا) ہم اس عذاب کو ہٹانے والے ہیں مگر پھر تم ویسے کے ویسے ہو جاؤ گے جس دن ہم ایسی پکڑ پکڑیں گے جو بڑی سخت ہو گی ، ہم انتقام لیں گے۔لرام پیشگوئی سے مراد فتح مکہ ہے جس نے مشرکین کی طاقت ختم کر دی تھی۔اس کا ذکر دو جگہ ہے: وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّى (طه:۱۳۰) { اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک قول اور ایک مقررہ میعاد طے نہ ہو چکے ہوتے تو وہ ایک چمٹ رہنے والا (عذاب) بن جاتا۔} قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْ لَا