صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 25 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 25

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۵ ١٠ - كتاب الأذان تشریح : كَمُ بَيْنَ الْآذَانِ وَالْإِقَامَةِ : امام ابن حمد کاخیال ہےکہ یہ اب ان کمزور روایوں کور کرنے کے اورد لئے باندھا گیا لئے باندھا گیا ہے جن میں اذان اور اقامت کے درمیانی وقفہ کا اندازہ ان الفاظ میں مذکور ہے: قَدْرَ مَا يَفْرُعُ الْآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ۔ ( ترمذی۔ كتاب الصلوة باب ما جاء في الترسل في الأذان) (المستدرك على الصحيحين كتاب الصلوة ابواب الأذان۔ اذا أذنت فترسل الجزء الاول۔ صفحه ۲۰۴) ترجمہ: دونوں اذانوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا کہ کھانے والا اپنے کھانے اور پینے والا پینے سے فارغ ہو جاتا اور ضرورت مند قضائے حاجت سے۔ امام بخاری کے نزدیک کوئی ایسی مستند روایت نہیں جس میں اس وقفے کی تعیین کی گئی ہو۔ یہ وقت کی وسعت اور تنگی اور نمازیوں کے اکٹھا ہونے اور دیگر مقامی حالات پر منحصر ہے۔ الله بَيْنَ كُلِّ آذَانَيْنِ صَلوۃ یعنی اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے۔ لِمَنْ شَاءَ اس کے لئے جو چاہے یعنی یہ نماز نفلی ہوگی ۔ جو چاہے پڑھے۔ نبی ﷺ کی سنت نے اس نفلی نماز کو ایک طرح وجوب کی حیثیت دے حیثیت دے دی ہے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عنوان باب میں ایک لطیف تصرف کیا ہے: وَمَنْ يَنْتَظِرُ الإِقَامَةَ کہہ کر اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ نماز کی انتظار کرنے والا بھی نماز میں ہوتا ہے۔ (بخارى - كتاب الوضوء - باب من لم ير الوضوء الا من المخرجين - حدیث نمبر ۱۷۶) اس اعتبار سے اذان اور اقامت کے درمیان انتظار کرنے والے کی حالت گویا نمازی ہی کی ہوتی ہے۔ اس سے بھی ظاہر ہے کہ بعض دفعہ زیادہ انتظار کرنا پڑتا تھا۔ مغرب سے پہلے نفل پڑھنے سے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آگے بیان ہوگا۔ صلى الله عا وسيم روایت نمبر ۶۲۵ ابواب سترة الـ ة المُصلی میں گزر چکی ہے۔ وہاں : وہاں بجائے نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ کے یہ الفاظ ہیں: كِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ۔ (دیکھئے کتاب الصلوة - باب ۹۵ - روایت نمبر ۵۰۳) بَاب ١٥ : مَنِ انْتَظَرَ الْإِقَامَةَ جس نے اقامت کا انتظار کیا ٦٢٦: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۶۲۶: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے زہری سے روایت کی ۔ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ حضرت قَالَتْ كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عائشہ کہتی تھیں : جب مؤذن نماز فجر کی پہلی اذان وَسَلَّمَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ دے کر خاموش ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم