صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 402 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 402

صحيح البخاری جلد ۲ ۰۲ ۱۵ - كتاب الاستسقاء صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنَ ہم حضرت عبداللہ بن مسعود ) کے پاس تھے۔انہوں النَّاسِ إِدْبَارًا قَالَ اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْع نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ لوگ يُوْسُفَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ روگردانی کر رہے ہیں تو آپ نے فرمایا: اے اللہ ! شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوْا الْجُلُوْدَ وَالْمَيْتَةَ سات سالہ قحط۔جیسا حضرت یوسف کے وقت میں سات سالہ قحط ڈالا تھا، ( ان پر ڈال ) سواُن پر ایسا قحط ابوسفیان آپ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: محمد ! وَالْحِيَفَ وَيَنْظُرَ أَحَدُهُمْ إِلَى پڑا، جس نے ہر ایک چیز کو نا کر دیا۔یہاں تک کہ آخر السَّمَاءِ فَيَرَى الدُّخَانَ مِنَ الْجُوعِ انہوں نے کھال اور مردار اور بد بودار لاشیں بھی فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ کھائیں اور ان میں سے کوئی جو آسمان کی طرف تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصَلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ نظر کرتا تو بھوک کے مارے اسے دھواں ہی نظر آتا۔قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوْا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ قَالَ آپ تو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور صلہ رحمی کا حکم اللهُ تَعَالَى فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ کرتے ہیں اور یہ دیکھو آپ کی قوم ہلاک ہوگئی ہے۔بِدُخَانٍ مُبِيْنِ إِلَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ اللہ سے ان کے لیے دعا کریں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا عَائِدُوْنَ يَوْمَ تَبْطِسُ الْبَطْشَةَ تھا: پس انتظار کر اُس دن کا جب آسمان ایک واضح الْكُبْرَى (الدخان: ۱۱-۱۷) فَالْبَطْشَةُ دھواں لائے گا۔ضرور تم ( انہی باتوں کا اعادہ کرنے يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ مَضَت الدُّعَانُ والے ہو۔) جس دن ہم بڑی گرفت کریں گے۔پس یہ بڑی گرفت بدر کے دن ہوئی۔چنانچہ دھوئیں کا وَالْبَطْشَةُ وَالعِرَامُ وَآيَةُ الرُّوْم۔عذاب اور سخت گرفت اور لزاما والی پیشگوئی اور روم کی پیشگوئی یہ سب باتیں ہو چکیں۔اطرافه ۱۰۲۰، 4693، 4767، ۱۷۷،4، ۱۸۰۹، ٤۸۲۰، ٤٨٢١، ٤٨٢٢، تشریح: دُعَاءُ النَّبِيِّ الله : امام بخاری نے باب نمبر 1 کا عنوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جملہ سے قائم کیا ہے جس کا تعلق قحط سالی کے ساتھ ہے۔اس عنوان کے تحت دو روایتیں نقل کی ہیں جن میں دو مختلف دعاؤں کا ذکر ہے۔پہلی روایت میں بعض لوگوں کے لئے نجات اور سلامتی کی دعا ہے اور بعض کے لئے تباہی کی اور دوسری روایت میں قحط پڑنے کی اور پھر اس قحط کے دور ہونے کی دعا مذکور ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دو مختلف دعا ئیں اپنے