صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 398 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 398

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۹۸ ١٤ - كتاب الوتر میں دعائے قنوت جائز سمجھی ہے۔امام مالک صرف نماز صبح میں دعائے قنوت مستحب سمجھتے ہیں۔امام ابوحنیفہ نے اس کو وتر کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔بعض نے علی الاطلاق ہر نماز میں اس کی اجازت دی ہے اور بعض نے اس کو بدعت قرار دیا ہے۔یہ مذہب کی بن کجی کا ہے۔ان لوگوں کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریل وڈ کو ان قبیلے پر ایک مہینہ تک بددعا کی تھی۔مگر جب یہ آیت نازل ہوئی: لَیسَ لَكَ مِنَ الأمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ (ال عمران (۱۲۹) { تیرے پاس کچھ اختیار نہیں۔خواہ وہ ان پر تو بہ قبول کرتے ہوئے جھک جائے یا انہیں عذاب دے، وہ بہر حال ظالم لوگ ہیں۔} تو آپ نے دعائے قنوت چھوڑ دی اور اس کی تائید میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت کا حوالہ بھی دیا ہے۔(تفصیل کے لیے دیکھئے: بداية المجتهد، الجملة الثالثة من كتاب الصلاة، الباب الاول، الفصل الاول، المسئلة التاسعة اختلفوا في القنوت) مگر اس سے مراد بددعا کا ترک کرنا ہوسکتا ہے نہ کہ مطلق دعا۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب الاستسقاء باب ۲۔امام بخاری ان لوگوں کا جو اس کو بدعت قرار دیتے ہیں رد کرنا چاہتے ہیں اور ان لوگوں کا بھی جو قنوت کو صبح کی نماز کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں، خواہ رکوع سے پہلے یا اس کے بعد اور امام بخاری نے حضرت انس بن مالک کی روایت چار سندوں سے نقل کر کے ان میں سے دوسری سند والی روایت کو باقی روایتوں پر ترجیح دی ہے جو از قبیل احاد ہیں۔روایت نمبر ۱۰۰۲ کے الفاظ قَدْ كَانَ الْقُنوت قابل توجہ ہیں۔اس کے یہ معنی ہیں کہ یقینا دعائے قنوت ہوا کرتی تھی۔یہ بدعت نہیں۔روایت نمبر ۱۰۰ سے امام ابوحنیفہ کی رائے رد کی ہے۔ان کے نزدیک صبح میں قنوت جائز نہیں۔امام مالک وتر میں دعائے قنوت جائز نہیں سمجھتے۔ان کا بھی رڈ کیا ہے کہ دعائے قنوت وتر نماز میں بھی ہوا کرتی تھی۔جیسے مغرب کی نماز میں اور صبح کی نماز میں بھی ( روایت نمبر ۱۰۰۴) اس روایت میں صبح اور مغرب کی تخصیص ہے۔مگر امام بخاری نے عنوانِ باب میں یہ تخصیص تسلیم نہیں کی بلکہ اسے مطلق رکھا ہے۔اس سے ان کا اپنا مذ ہب ظاہر ہے۔روایت نمبر ۲٬۱۰۰ ۱۰۰ سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ گویا آپ نے رکوع کے بعد تھوڑی دیر یعنی ایک مہینہ دعا کی تھی اور دریں اثناء قنوت اکثر رکوع سے پہلے ہوتا۔مگر امام بخاری نے اس روایت پر مسئلہ کی بنیاد نہیں رکھی اور عنوان باب میں رکوع سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی دعائے قنوت کرنے کی طرف اشارہ کیا ہے۔روایت نمبر ۱۰۰۳ میں اس امر کی تصریحہے کہ وہ دعا جو مہینہ بھر رکوع کے بعد کی گئی تھی ریل وڈ کو ان قبائل سے متعلق تھی۔ابو براء عامر بن مالک بن جعفر کلابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ ان کے ساتھ کچھ صحابہ بھیج دیئے جائیں جو مشرکین نجد کو دعوت اسلام دیں۔آپ نے ستر قاری بھیجے۔راستے میں رعل وڈ کو ان کے قبیلے تھے۔جن کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد تھا۔انہوں نے غداری کی اور بئر معونہ کے مقام پر جب قاریوں کا قافلہ اُترا تو ان قبائل نے ان پر چھاپہ مارا اور انہیں ہلاک کر دیا۔فَقَنَتَ رَسُولُ اللهِ ﷺ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ تو آپ نے مہینہ بھر ان کے خلاف دعا کی۔اس واقعہ کی تفصیل کتاب المغازی باب ۲۸ میں دیکھئے۔امام بخاری نے رکوع کے بعد کھڑے ہو کر دعا کرنے کا جواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قوت سے مستنبط کیا ہے جو مہینہ بھر ہوتا رہا۔آپ صلى الله