صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 397
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۹۷ ١٤ - كتاب الوتر إِلَى قَوْمِ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ دُوْنَ أُولَئِكَ کے بعد تو کھڑے ہو کر ایک مہینہ دعا کی تھی۔میرا خیال وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّی ہے کہ آپ نے جو ستر کے قریب آدمی جو قاری اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَقَنَتَ رَسُولُ اللهِ کہلاتے تھے، مشرکوں کی ایک قوم ( بنی عامر ) کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو طرف بھیجے ، یہ وہ نہ تھے اور ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان عہد تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ عَلَيْهِمْ۔وسلم نے ایک ماہ ان پر بددعا کی۔اطرافه: ۰۱۔1 ،٤۰۸۸ ،۳۱۷۰ ،۳۰٦٤ ،۲۸۱۶ ،۲۸۰۱ ،۱۳۰ ٤۰۸۹، ٤٠٩٠، ٤۰۹۲، ٤۰۹٤، ٤٠٩٦، ٦٣٩٤، ٧٣٤١۔١٠٠٣: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :۱۰۰۳: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ التَّيْمِي عَنْ أَبِي زائدہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (سلیمان) تیمی مِجْلَرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّی سے ہمی نے ابو مجلز سے، انہوں نے حضرت انس اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلِ ) بن مالک) سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ ( وسلم نے ریل اور ڈکوان قبیلوں پر ایک ماہ تک وَذَكْوَانَ۔اطرافه · بددعا کی۔،٤۰۸۸ ،۳۱۷۰ ،۳۰۶۴ ،۲۸۱۱ ،۲۸۰۱ ،۱۳۰ 1۔۔٤، ٤٠٩٦، ٦٣٩٤، ٠٧٣٤١۰۹٤، ٤۰۹۲ ،٤٠٨٩، ٤٠٩٠ ١٠٠٤ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۱۰۰۴ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل إِسْمَاعِيْلُ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي ( بن علیہ ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: خالد قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ الْقُنُوتُ فِي (هاء) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس بن مالک ) سے روایت کی۔وہ کہتے الْمَعْرب وَالْفَجْرِ۔تشریح: تھے: قنوت مغرب اور فجر کی نمازوں میں ہوا کرتا تھا۔الْقُنُوتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ : قنوت کے لغوی معنی ہیں کھڑے ہو کر عاجزی اور گداز قلب سے اپنی عبودیت کا اقرار کرتے ہوئے دعا کرنا اور یہاں وہ دعا مراد ہے جو نماز میں رکوع سے پہلے یا بعد کھڑے ہو کر کی جاتی ہے۔اس بارے میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔امام مالک کے سوا باقی آئمہ نے وتر نماز