صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 399 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 399

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۹۹ ١٤ - كتاب الوتر روح القدس سے ہر لحظ مستفیض ہوتے تھے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ مہینہ بھر آپ ایسی بات پر قائم رہتے جو نماز میں جائز نہ تھی۔یہی وجہ ہے کہ عنوان باب میں دونوں صورتوں کا جواز نمایاں کر کے دکھایا گیا ہے۔روایت نمبر ۱۰۰۲،۱۰۰۱ سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت انس کے زمانہ میں یہ اختلاف تو نہ تھا کہ قنوت جائز ہے یا نا جائز۔وتر میں پڑھی جائے یا صبح کو بلکہ یہ اختلاف تھا کہ رکوع سے پہلے ہو یا بعد۔اس اختلاف کو مد نظر رکھ کر حضرت انس نے جواب دیا کہ رکوع کے بعد کم ہوا ہے۔فَقَالَ كَذَبَ : كذب عمداً جھوٹ بولنے کو کہتے ہیں۔ایسا ہی غلط بیانی کو بھی۔اصحاب السنن نے حضرت حسن بن علی کی روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے اور فرمایا کہ میں ان کو وتر کی دعائے قنوت میں پڑھا کروں۔وہ کلمات یہ ہیں: اَللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيْمَنُ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيْمَنُ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيْمَنُ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيْمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّمَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ وَإِنَّهُ لَا يَزِلُّ مَنْ وَّالَيْتَ وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ تَبَارَكُتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ وَ صَلَّى اللهُ عَلَى النَّبِي۔الہی جن لوگوں کی تو نے رہنمائی فرمائی ہے، ان کے ساتھ میری بھی رہنمائی فرما اور جنہیں تو نے عافیت میں رکھا ہے ان کے ساتھ مجھے بھی عافیت میں رکھ اور جن کا تو کارساز ہوا ہے، ان کے ساتھ میرا بھی کارساز ہو اور جو کچھ تو نے مجھے عنایت کیا ہے، اس میں برکت دے اور جس بات کا تو نے فیصلہ کیا ہے، اس کے شر سے مجھے بچا۔تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیری مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہوتا اور جس کا تو والی ہو وہ ذلیل نہیں ہوتا اور جس کا تو مخالف ہوا ، وہ عزت نہیں پاتا۔تو بہت برکتوں والا ہے اور تو عالی شان ہے۔اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر فضل نازل فرمائے۔( آمین ) (ابوداؤد ، کتاب الصلاة، باب القنوت فى الوتر) (ترمذى، كتاب الصلاة، باب ما جاء في القنوت في الوتر) (النسائی، کتاب قيام الليل وتطوع النهار، باب الدعاء في الوتر) ابن ماجه، کتاب الاقامة الصلاة، باب ما جاء في القنوت في الوتر)