صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 24
صحيح البخاري - جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ١٤ : كَمْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَمَنْ يَنْتَظِرُ الْإِقَامَةَ اذان اور اقامت کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیے اور جوا قامت کا انتظار کرے ٦٢٤ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ۶۲۴ : اسحاق واسطی نے ہم سے بیان کیا، کہا: خالد قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنِ الْجُرَيْرِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جریری سے۔ مجریری نے عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ابن بُریدہ سے، ابن بریدہ نے حضرت عبداللہ بن مُغَفَّلِ الْمُزَنِي أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى مُغَفَّل مُزَنی سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ فرمایا: ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ یہ تین دفعہ فرمایا اور پھر فرمایا: ) اس شخص کے لئے جو چاہے۔ صَلَاةٌ ثَلَاثًا - لِمَنْ شَاءَ۔ اطرافه: ٦٢٧۔ ٦٢٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ۶۲۵ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: مغندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ نے ہمیں بتایا، کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْأَنْصَارِي نے عمرو بن عامر انصاری سے سنا کہ وہ حضرت انس عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ الْمُؤَذِّنُ بن مالک سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: إِذَا أَذَّنَ قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ مَؤذن جب اذان دیا کرتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ حَتَّى يَخْرُجَ صحابہ میں سے کچھ لوگ جلدی سے ستونوں کی طرف النَّبِيُّ وَهُمْ كَذَلِكَ يُصَلُّوْنَ جاکر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوجاتے؛ یہاں الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور اسی الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ شَيْءٌ قَالَ عُثْمَانُ بْنُ طرح وہ مغرب سے پہلے بھی دو رکعتیں پڑھتے۔ جَبَلَةَ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ لَمْ يَكُنْ بحالیکہ اذان اور اقامت کے درمیان بہت وقت نہ بَيْنَهُمَا إِلَّا قَلِيْلٌ۔ ہوتا۔ عثمان بن جبلہ اور ابوداؤد نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے کہا: ان کے درمیان تھوڑ اسا وقفہ ہوتا۔ اطرافه: ٥٠٣۔