صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 23 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 23

صحيح البخاري - جلد ۲ ۲۳ ١٠ - كتاب الأذان حَتَّى يَقُوْلَ هَكَذَا وَقَالَ زُهَيْرٌ بِسَبَّابَتَيْهِ طرف جھکایا؛ یہاں تک کہ اس طرح ہو جائے اور زہیر إِحْدَاهُمَا فَوْقَ الْأُخْرَى ثُمَّ مَدَّهُمَا نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کیا۔ان میں سے ایک دوسری کے اوپر تھی۔پھر ہر ایک کو اس نے اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف کھینچا۔عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ۔اطرافه: ٥۲۹۸ ٧٢٤٧۔٦٢٢-٦٢٣ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ ۶۲۲-۶۲۳ : اسحاق ( واسطی) نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ حَدَّثَنَا کیا ، کہا : ابواسامہ نے ہمیں بتایا، کہا: عبید اللہ نے ہم عَنِ الْقَاسِمِ بْن مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ سے بیان کیا، (کہا: ) انہوں نے قاسم بن محمد سے، وَعَنْ نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ قاسم نے حضرت عائشہ اور نافع سے، نافع نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِ۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔وَحَدَّثَنِي يُوْسُفُ بْنُ عِیسَی اور مجھ سے یوسف بن عیسیٰ مروزی نے بھی بیان کیا، الْمَرْوَزِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ قَالَ کہا۔فضل نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبید اللہ بن عمر حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنِ القَاسِمِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قاسم بن محمد سے اور قاسم ابْن مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی نے حضرت عائشہ سے، حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: بلال تو بِلَيْلٍ فَكُلُوْا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِنَ ابْنُ رات کو اذان دیتا ہے۔اس لئے تم کھاؤ اور پیو؛ یہاں أُمِّ مَكْتُوم۔تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔اطرافه ،۶۱۷، ۶۲۰، ۱۹۱۸، ٢٦٥٦، ٧٢٤۔٢٠٠ لَيْسَ أَنْ يَقُولَ الْفَجُرُ : قَالَ اور اس کے صیغے مطلق فعل کے معنوں میں بکثرت استعمال ہوتے ہیں۔یہاں بمعنی يَظْهَرُ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اوپر نیچے کر کے یہ بتایا تشریح: ہے کہ وہ سفیدی جو نیچے سے اوپر کو اٹھی ہوئی ہوتی ہے، وہ فجر نہیں بلکہ روشنی ہے، صبح کاذب کی۔حَتَّى يَقُولَ هكذا: صبح نہیں ہوتی۔جب تک اس طرح نہ ہو جائے یعنی وہ روشنی آسمان پر چوڑائی میں پھیل جائے۔شہادت کی دونوں انگلیوں کے ادھر اُدھر حرکت دینے سے یہی مراد ہے کہ صبح کی روشنی دائیں بائیں بھی پھیل جاتی ہے۔