صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 22
بخاری جلد ۲ ۲۲ ١٠ - كتاب الأذان تشریح: الا ذَانُ بَعْدَ الْفَجْرِ : باب ۱۳:۱۲ ایک اختلاف کی وجہ سے قائم کئے گئے ہیں۔امام ابو حنیفہ جو امام فقہاء کوفہ ہیں، قبل از وقت اذان دینا مطلقا جائز نہیں سمجھتے اور امام مالک جو امام فقہاء حجاز ہیں اور امام شافعی فجر سے پہلے اذان دینا جائز سمجھتے ہیں۔جس کی وجہ مذکورہ بالامستند روایت ہے۔فقہاء کو فہ حضرت ابن عمر کی وہ روایت پیش کرتے ہیں جس میں حضرت بلال کے فجر ہونے سے پہلے اذان دینے کا ذکر ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ اعلان کردو: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ بندہ سو چکا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے: بداية المجتهد۔كتاب الصلوة۔الباب الثاني فى معرفة الأذان۔الفصل الاول القسم الثالث فى وقت الأذان ) اہل تحقیق کے نزدیک وہ روایتیں زیادہ صحیح اور مستند ہیں جن میں صبح سے پہلے ایک ضرورت کی بناء پر اذان میں بولنے کی اجازت دی تھی۔امام موصوف نے روایت نمبر ۶۲۰ سے یہ ضرورت واضح کر کے دکھائی ہے۔اس روایت میں مذکورہ بالا الفاظ نہیں۔حدیث مذکور کی مختلف سندیں پیش کر کے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ فجر سے پہلے اذان دینا ثابت شدہ امر ہے۔بَابِ ۱۳ : الْأَذَانُ قَبْلَ الْفَجْرِ فجر سے پہلے اذان دینا ٦٢١ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ :۶۲۱: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، کہا: زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ نے ہمیں بتایا، کہا: سلیمان تیمی نے ہم سے بیان کیا۔التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِي عَنْ انہوں نے ابو عثمان نہدی سے ، ابو عثمان نے حضرت عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى عبد الله بن مسعودؓ سے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: لَا يَمُنَعَنَّ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ احَدَكُم یا فرمایا: احَدًا مِنْكُمُ یعنی تم میں سے کسی کو أَوْ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُوْرِهِ بلال کی اذان سحری کے کھانے سے نہ رو کے۔کیونکہ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ يُنَادِي بِلَيْلِ لِيَرْجِعَ وہ رات کو اذان دیتا ہے یا فرمایا: پکارتا ہے، تا تم میں قَائِمَكُمْ وَلِيُنَيَّةَ نَائِمَكُمْ وَلَيْسَ أَنْ سے جو کھڑا نماز تہجد پڑھ رہا ہو اسے گھر کو واپس کر دے اور تم میں سے جو سویا ہوا ہو اُسے جگا دے اور فجر يَقُوْلَ الْفَجْرُ أَوِ الصُّبْحُ وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ ، فرمایا ) صبح یوں ظاہر نہیں ہوتی اور آپ نے اپنی یا ( رَفَعَهَا إِلَى فَوْقُ وَطَأطَاً إِلَى أَسْفَلَ انگلیوں سے اشارہ کیا اور ان کو او پر اُٹھایا اور نیچے کی إِلَى فَوْقَ بِالضَّمِّ عَلَى الْبَنَاءِ وَكَذَا أَسْفَلُ۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۱۳۸)