صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 369
حيح البخاری جلد ۲ ٣٦٩ بَاب ١٣ : الصَّلَاةُ إِلَى الْحَرْبَةِ يَوْمَ الْعِيْدِ عید کے دن برچھی کے سامنے نماز پڑھنا ١٣ - كتاب العيدين ۹۷۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ :۹۷۲ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ عبد الوہاب (ثقفی) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ نے کہا: عبیداللہ عمری ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُرْكَزُ نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ الْحَرْبَةُ قُدَّامَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ ثُمَّ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عید الفطر اور عیدالاضحیہ کے دن برچھی گاڑی جاتی۔پھر آپ نماز پڑھتے۔يُصَلِّي۔أطرافه: ٤٩٤ ٤٩٨ ، ٩٧٣ بَاب ١٤ : حَمْلُ الْعَنَرَةِ أَوِ الْحَرْبَةِ بَيْنَ يَدَيِ الْإِمَامِ يَوْمَ الْعِيْدِ سم دار چھڑی یا بر اچھی عید کے دن امام کے آگے لے کر چلنا ٩٧٣: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۹۷۳ ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو وليد (بن) مسلم ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ہم سے ابی عمر و ( اوزاعی ) نے بیان کیا، کہا: نافع نے قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مجھے بتایا۔حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ انہوں يَعْدُوْ إِلَى الْمُصَلَّى وَالْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو عید گاہ جاتے اور تُحْمَلُ وَتُنْصَبُ بِالْمُصَلَّى بَيْنَ يَدَيْهِ برچھی آپ کے آگے آگے اٹھا کر لے جائی جاتی اور فَيُصَلِّي إِلَيْهَا۔عیدگاہ میں آپ کے سامنے گاڑ دی جاتی۔آپ اس أطرافه: ٤٩٤ ٤٩٨ ٩٧٢ تشریح: کے سامنے نماز پڑھتے۔حَمْلُ الْعَنَزَةِ اَوِ الْحَرْبَةِ بَيْنَ يَدَيِ الْإِمَامِ يَوْمَ الْعِيدِ : باب ؟ میں گزر چکا ہے کہ عید گاہ میں ہتھیار اُٹھانا ممنوع ہے۔مگر سترہ کے لئے اور خطرہ کی حالت میں امام کی حفاظت کی غرض سے ہتھیار اُٹھا کر اس کے آگے چلنا جائز ہے۔