صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 370
البخاری جلد ۲ ۳۷۰ ١٣ - كتاب العيدين عن باب ١٥: حُرُوجُ النِّسَاءِ وَالْحَيْض إلَى الْمُصَلَّى عیدگاہ میں عورتوں اور حیض والیوں کا جانا ٩٧٤ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ :۹۷۴ عبدالله بن عبد الوھاب نے ہم سے بیان الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ کیا ، کہا : حماد بن زید ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مُّحَمَّدٍ عَنْ أُمّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أُمِرْنَا ايوب (سختیانی) سے، ایوب نے محمد بن سیرین) أَنْ تُخْرِجَ الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ سے محمد نے حضرت ام عطیہ سے روایت کی۔وہ کہتی وَعَنْ أَيُّوبَ عَنْ حَفْصَةَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ تھیں کہ ہمیں حکم ہوا ہے کہ ہم پردہ دار جوان عورتوں کو فِي حَدِيْثِ حَفْصَةَ قَالَ أَوْ قَالَتِ بھی عید کے دن) لے کر جایا کریں اور ایوب سے ( الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ وَيَعْتَزِلْنَ پیروی ہے کہ انہوں نے حفصہ سے بھی ایسی ہی روایت نقل کی۔حفصہ کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ ایوب الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى۔نے یا حفصہ نے کہا: جوان عورتوں اور پردہ نشینوں کو بھی اور حیض والیاں نماز گاہ سے علیحدہ رہتیں۔اطرافه ۳٢٤ ،۳۵۱ ،۹۷۱، ۹۸۰، ۹۸۱، ١٦٥۲ تشریح: خُرُوجُ النِّسَاءِ وَالْحُيْضِ إِلَى الْمُصَلَّی: باب ۱۵ و باب ۱۶ یہ بتانے کے لیے قائم کیے گئے ہیں کہ عورتیں اور بچے بھی عید میں شریک ہوں اور حائضہ بھی؛ اگر چہ وہ نماز پڑھنے سے معذور ہیں مگر ذکر الہی اور دعاؤں میں شریک ہو سکتی ہیں اور خطبہ عید سے بھی فائدہ اُٹھا سکتی ہیں۔بچے بھی شریک ہوں تا جتنا فائدہ اٹھا سکتے ہوں اٹھا ئیں۔اگر وہ کچھ سمجھ نہیں سکتے تو کم از کم یہ تو ہوگا کہ دیکھنے سے عمدہ باتوں کے اخذ کرنے کی استعداد پیدا ہو کر اُن کے اندر ابتدائی بنیاد قائم ہو جائے گی۔اسلام عورتوں کی تربیت سے متعلق اتنا ہی اہتمام کرتا ہے جتنا مردوں کے لئے۔پردہ اس راہ میں قطعا روک نہیں۔جیسا کہ آج کل مسلمانوں نے اپنی ناسمجھی سے اس کو روک سمجھ رکھا ہے۔اس تعلق میں باب ۱۹ اور باب ۲۰ بھی دیکھئے۔