صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 368
لبخاری جلد ۲ ۳۶۸ ١٣ - كتاب العيدين تشریح التبكُبيرُ أَيَّامَ مِنِّى وَ إِذَا غَدَا إِلَى عَرَفَةَ : ایام ملی تشریق کے چار دن ہیں۔حاجی عرفات کو نویں تاریخ کی صبح کو جاتے ہیں۔دسویں تاریخ کو منی میں قربانی کرتے ہیں اور تیرہ تاریخ تک وہاں ٹھہرتے ہیں۔گویا یہ کل پانچ دن ہیں۔اس میں بھی اختلاف ہوا ہے کہ آیا أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ میں عرفہ کا دن بھی شامل ہے؟ امام احمد بن حنبل اور سفیان ثوری کا یہ مذہب ہے کہ یوم عرفہ کی نماز فجر پڑھنے کے بعد سے ایام تشریق کے آخری دن یعنی تیرھویں تاریخ عصر تک تکبیریں کہی جائیں اور امام مالک وامام شافعی کا یہ مذہب ہے کہ قربانی کے دن نماز ظہر کے بعد سے تیرھویں تاریخ خبر تک تکبیریں کہی جائیں۔(بداية المجتهد، کتاب الصلاة الثاني، الباب الثامن في صلاة العیدین) اور فقہاء میں یہ بھی اختلاف ہے کہ آیا حکم لِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدكُمْ (الحج:۳۸) حج کرنے والوں کے لئے مخصوص ہے یا عام۔امام بخاری کے نزدیک یہ عام حکم ہے۔عرفات اور مٹی دونوں جگہوں میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا اعلان ہونا چاہیے۔خواہ اللہ اکبر کہہ کر یا اللَّهُمَّ لَبَّیک کہتے ہوئے۔خَلْفَ الصَّلَوَاتِ وَعَلَى فِرَاشِهِ وَفِي فُسْطَاطِهِ وَمَجْلِسِهِ وَمَمْشَاهُ تِلْكَ الْأَيَّامِ جَمِيعًا : یعنی نمازوں کے بعد اور بستر میں اور خیمہ میں اور بیٹھنے کی جگہ اور چلتے وقت اور ان تمام ایام میں ذکر الہی جاری رہے۔اس میں نہ نماز فریضہ کی تخصیص ہے نہ نوافل کی ، نہ مسجد کی نہ بیٹھنے کی ، نہ مرد یا عورت کی۔اکثر اوقات ذکر الہی میں ہی گذر نے چاہیں ، عرفات میں بھی اور مٹی میں بھی۔زمانہ جاہلیت میں عرب لوگ ان دنوں مٹی میں اپنے بتوں کے نام پر قربانی کیا کرتے تھے۔اسلام نے اس کو منسوخ کیا اور قربانی اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار از سر نو تازہ کردی۔عارق طائی جو زمانہ جاہلیت کا شاعر ہے، وہ عمرو بن ہند مملک کو مخاطب کرتا اور کہتا ہے:۔حَلَفْتُ بِهَدِي مُشْعَرٍ بَكَرَاتُهُ يَخِبُّ بِصَحْرَاءِ الْغَبِيْطِ دَرَادِقُهُ لَئِن لَّمْ تُغَيِّرُ بَعْضَ مَا قَدْ صَنَعْتُمُ لا نتَحِيَنَّ الْعَظْمَ ذُوانَا عَارِقُهُ یعنی میں نے جوان اونوں کی قسم کھائی ہے جو نشان شدہ ہیں کہ یہ بیت اللہ کی قربانیاں ہیں۔جن کے پلو ٹھے آزادی سے صحراء نبیط میں کودتے چلے آ رہے ہیں۔اگر تو نے اپنی ظالمانہ کرتوتوں میں سے کسی کا بھی تدارک نہ کیا تو میں گوشت کے ساتھ ہڈیاں تک چبا جاؤں گا۔علاوہ ازیں بڑے آدمی کی قبر پر گھوڑا ذبح کرنے کی بھی رسم تھی جو منسوخ کر دی گئی۔تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب اديان العرب في الجاهلية - صفحه ۹۹ تا ۱۰۹ مصنفہ محمد نعمان المحارم طبع اول۔