صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 367
حيح البخاری جلد ۲ سم ١٣ - كتاب العيدين عُثْمَانَ وَعُمَرَ بْن عَبْدِ الْعَزِيزِ لَيَالِيَ تکبیریں کہتیں اور عورتیں مسجد میں مردوں کے ساتھ التَّشْرِيْقِ مَعَ الرِّجَالِ فِي الْمَسْجِدِ۔تشریق کی راتوں میں ابان بن عثمان اور عمر بن عبدالعزیز کے پیچھے تکبیریں کہتی تھیں۔۹۷۰ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۹۷۰: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک بن انس مَالِكُ بْنُ أَنَس قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: محمد بن ابی بکر ثقفی أَبِي بَكْرِ التَّقْفِيُّ قَالَ سَأَلْتُ أَنسًا نے مجھے بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس ( بن وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنِّى إِلَى عَرَفَاتٍ مالک سے، جبکہ ہم دونوں صبح کو مٹی سے عرفات کو عَنِ التَّلْبِيَّةِ كَيْفَ كُنتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ جارہے تھے، لیک کی بابت پوچھا کہ آپ نبی ہے کے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ ساتھ کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: لبیک کہنے والا يُلَتِي الْمُلَتِي لَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ لبیک کہتا اور اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور تکبیریں کہنے وال تکبیر کہتا۔اس پر بھی کوئی اعتراض نہ کرتا۔الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ۔اطرافه: ١٦٥٩ ۹۷۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ ۹۷۱ : محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) ہم سے عمر بن بْنُ حَفْصٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَاصِمٍ حفص بن غیاث ) نے ، انہوں نے کہا: میرے باپ حَفْصَةَ عَنْ أُمّ عَطِيَّةَ قَالَتْ كُنَّا نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عاصم ( بن سلیمان) سے، تُؤْمَرُ أَنْ تَخْرُجَ يَوْمَ الْعِيْدِ حَتَّى نُخْرِجَ عاصم نے حفصہ (بنت سیرین) سے، حفصہ نے الْبِكْرَ مِنْ خِدْرِهَا حَتَّى نُخْرِجَ حضرت ام عطیہ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں : ہمیں الْحُيَّضَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُكَبِّرْنَ عید کے دن نکلنے کے لئے کہا جا تا۔ہم کنواریوں کو بھی ان کے پردے سے نکالتیں بلکہ حائضہ کو بھی نکالتیں اور عورتیں لوگوں کے پیچھے رہتیں اور مردوں کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہتیں اور ان کی دعا کے ساتھ دعا کرتیں۔بِتَكْبِيرِهِمْ وَيَدْعُوْنَ بِدُعَائِهِمْ يَرْجُوْنَ بَرَكَةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَطُهْرَتَهُ۔اس دن کی برکت اور پاکیزگی کی امید رکھتیں۔اطرافه ۳٢٤، ۳۵۱، ۹۷۴، ۹۸۰، ۹۸۱، ١٦٥۲