صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 366 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 366

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۶۶ ١٣ - كتاب العيدين ابن عباس کے نزدیک أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ سے مراد ذوالحج مہینے کے دس دن ہیں اور سورۃ البقرۃ میں ہے: وَاذْكُرُوا اللهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ (البقرة :۲۰۴) یہاں بھی احکام حج کا بیان ہے اور اس میں اَيَّامٍ مَعْدُودَات یعنی چندگنتی کے دنوں سے مراد ایام تشریق ہیں۔ عنوان باب میں مذکور روایات کے حوالوں کی تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۹۰۔ محمد بن علی امام باقر ہیں جو ایام تشریق میں نفلوں کے بعد اللہ اکبر کہتے ہوئے ذکر الہی میں مشغول ہو جاتے تھے۔ یہ حوالے فقہاء کا اختلاف مد نظر رکھ کر دیئے گئے ہیں۔ تفصیل کے لئے بداية المجتهد، كتاب الصلاة الثاني، الباب الثامن في صلاة العيدين امام بخاری کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے سوا اور کچھ ثابت نہیں کہ حج کے دس دن من حیث العموم اور قربانی کے ایام من حيث الخصوص مبارک ہیں۔ ان میں ذکر الہی جس وقت جس طرح بھی ہو، افضل ہی افضل ہے۔ مذکورہ بالا آیتوں میں نہ اس کی تخصیص کی گئی ہے کہ عرفہ کی صبح کو ذکر الہی ہو یا ظہر کو، نہ اس کی کہ نماز فریضہ کے بعد ہو یا نوافل کے بعد اور نہ مبارک ایام میں سے کسی دن یا وقت کی ذکر الہی کے لئے خصوصیت ہے۔ حدیث نمبر ۹۶۹ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کی ایک خاص حالت کو مستثنی فرما کر اسلامی حج کی ماہیت آشکار کر دی ہے۔ حج دنیا میں عبودیت و عبادت کا معراج ہے اس میں انسان کے ذہن نشین یہ کیا جاتا ہے کہ دنیاوی علائق سے بالکل منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور اللهُمَّ لَبَّیک کہتے ہوئے آکھڑا ہونا اور پھر وہاں سے اپنا تن من دھن اللہ تعالیٰ کے سپردکر کے لوٹنا اصل عبودیت ہے اور اس کا نام حج ہے۔ یہ حج اور اس قسم کا جہاد دونوں برابر ہیں۔ بَاب ۱۲ : التَّكْبِيرُ أَيَّامَ مِنِّى وَإِذَا غَدَا إِلَى عَرَفَةَ منی کے دنوں میں تکبیر کہنا اور جب ( نویں تاریخ ) صبح کو عرفات جائے وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ فِي قُبَّتِهِ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ منی میں ہی اپنے خیمہ میں بِمِنِّي فَيَسْمَعُهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فَيُكَبِّرُونَ تکبیر کہتے تھے اور مسجد والے ان کی تکبیر سن کر تکبیر کہتے وَيُكَبِّرُ أَهْلُ الْأَسْوَاقِ حَتَّى تَرْتَجَ مِنِّى اور بازاروں والے بھی تکبیریں کہنے لگ جاتے۔ تَكْبِيرًا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكَبِّرُ بِمِنّى تِلْكَ یہاں تک کہ فضاء مٹی تکبیروں سے گونج اُٹھتی اور ان الْأَيَّامَ وَخَلْفَ الصَّلَوَاتِ وَعَلَى فِرَاشِهِ دنوں حضرت ابن عمر منی میں اور نمازوں کے بعد وَفِي فُسْطَاطِهِ وَمَجْلِسِهِ وَمَمْشَاهُ تِلْكَ اور اپنے بستر پر اور اپنے خیمہ میں اور اپنی مجلس میں اور الْأَيَّامَ جَمِيعًا وَكَانَتْ مَيْمُونَةُ تُكَبِّرُ يَوْمَ راستے میں چلتے ہوئے اور ان تمام دنوں میں تکبیریں النَّحْرِ وَكُنَّ النِّسَاءُ يُكَبِّرْنَ خَلْفَ أَبَانَ بْنِ کہتے اور حضرت میمونہ (دسویں تاریخ ) قربانی کے دن