صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 365
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۶۵ ١٣ - كتاب العيدين بَاب ۱۱ : فَضْلُ الْعَمَلِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيْقِ ایام تشریق میں اعمال کی فضیلت وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ فِي اور حضرت ابن عباس نے کہا کہ ( قرآن مجید میں یہ أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ (الحج: (۲۹) أَيَّامُ الْعَشْرِ جو آیا ہے: وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ وَالْأَيَّامُ الْمَعْدُودَاتُ أَيَّامُ التَشْرِيقِ مَّعْلُومَاتٍ۔ ان سے (ذوالج کے ) دس دن مراد ہیں وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ يَخْرُ جَانِ إِلَى اور أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ سے مراد ایام تشریق ہیں اور السُّوْقِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ يُكَبِّرَانِ وَيُكَبِّرُ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت ابو ہریرہ ان دس دنوں میں بازار کو اللہ اکبر کہتے ہوئے جاتے اور لوگ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِمَا وَكَبَّرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِتی بھی ان کی تعمیر کے ساتھ اللہ اکبر کہتے اور امام باقر) خَلْفَ النَّافِلَةِ۔ محمد بن علی نفلوں کے بعد تکبیریں پڑھتے ۔ ٩٦٩: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ :۹۶۹ محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان ( بن اعمش ) سے، سلیمان صلى الله مُسْلِمِ الْبَطِيْنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ نے مسلم البطین سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے ، سعید ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت ابن عباس سے، انہوں نے نبی ﷺ سے وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ روایت روا کی ۔ آپ نے فرمایا: کوئی عمل بھی جو دوسرے دنوں أَفْضَلَ مِنَ الْعَمَلِ فِي هَذِهِ قَالُوْا وَلَا میں کیا جائے ان دس دنوں ۔ ائے ان دس دنوں کے عمل سے بڑھ کر نہیں : ہو الْجِهَادُ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ سکتا۔ لوگوں نے کہا: کیا جہاد بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ ۔ جہاد بھی نہیں۔ مگر ۔ مگر ہاں وہ شخص : وہ حص جو اپنی جان و مال خطرے میں ڈالتے ہوئے نکلے اور پھر کوئی چیز بھی واپس نہ لا لائے۔ تشريح : فَضْلُ الْعَمَلِ فِي أَيَّامِ التشريق : تشریق کے منے کا نما اوردھوپ سے خشک کرنا۔ ایام حج میں قربانی کے لئے چار دن ہوتے ہیں۔ عید کا دن اور اس کے بعد تین و ، بعد تین دن ۔ ان دنوں میں میں قربانی کی جاتی ہے اور ضرورت سے زیادہ گوشت ہونے کی وجہ سے اس کو مصالحہ جات لگا کر دھوپ میں خشک کر لیا جاتا ہے۔ اس لئے ان دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں۔ سورہ حج میں آتا ہے: وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ (الحج: ۲۹) حضرت