صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 364
صحيح البخاری جلد ۲ سمسم ١٣ - كتاب العيدين ٩٦٨: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ :۹۶۸ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زبید سے، زبید نے شعبی سے، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ شعبی نے حضرت براء بن عازب) سے روایت کی کہ انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نے کہا: عیدالانی کے دن بی صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں سے نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ تُصَلِّيَ ثُمَّ تَرْجِعَ مخاطب ہوئے اور فرمایا: پہلا کام جو ہم اپنے اس دن میں کرتے ہیں وہ نماز ہے۔ پھر واپس جا کر ہم قربانی کرتے ہیں۔ پس فَتَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ جس نے ایسا کیا تو اس نے ٹھیک ہمارا طریق اختیار کیا اور جس سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ نے نماز پڑھنے سے پہلے ذبح کر لیا وہ صرف گوشت ہے جو اس لَحْمٌ عَجَلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي نے اپنے گھر والوں کے لئے جلدی سے کر لیا۔ قربانی سے اس کا شَيْءٍ فَقَامَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ کچھ تعلق نہیں۔ اس پر میرے ماموں حضرت ابو بردہ بن نیاز يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّي کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے تو نماز وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُّسِنَّةٍ قَالَ پڑھنے سے پہلے ذبح کر لیا ہے اور میرے پاس ایک سال کی اجْعَلْهَا مَكَانَهَا أَوْ قَالَ اذْبَحْهَا وَلَنْ پٹھیا ہے جو دو سال والی بکری سے بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا: تم اس کو اس کی جگہ قربانی میں دے دو یا فرمایا: اس کو ذبح کر دو اور تَجْزِيَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ۔ تمہارے بعد کسی کو بھی ایک سال کی پٹھیا کام نہ دے گی۔ اطرافه: ٩٥١ ٩٥٥، 965، 976، 93، 5545، 5556، ٥٥٥٧، ٥٥٦٠، ٠٥٥٦٣ ٦٦٧٣ تشريح: التبْكِيرُ إِلَى الْعِيدِ: فقہاء اس بات پر و متفقہیں کہ سورج نکلے سے پہلے یا کتے وق عید کی نماز پڑھنا جائز نہیں لیکن اس امر میں ان کا اختلاف ہے کہ آیا عید زوال تک پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں۔ عنوان باب میں حضرت عبداللہ بن بُسر کے قول کا حوالہ دے کر روایت نمبر ۹۶۸ کے الفاظ اِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا انْ تُصَلِّی سے امام بخاری نے استدلال کیا ہے کہ عید کے دن سب سے پہلا اہتمام نماز کی ادائیگی کا ہونا چاہیے یعنی وہ اول وقت میں پڑھی جائے۔ اس کے بعد دوسرے کام ہوں ۔ لے کام ہوں۔ حضرت ابن بسرہ کا یہ قول ابو داؤد نے بروایت امام احمد بن ، حنبل اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔ (ابو داؤد، كتاب الصلاة، باب وقت الخروج الی العید ) کسی عید کے موقع پر امام نے آنے میں دیر کر دی تو انہوں نے اسے نا پسند کیا اور مذکورہ بالا الفاظ کہے جس سے مراد نماز اشراق کا وقت تھا۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۸۸)