صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 359 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 359

سحیح البخاری جلد ۲ ۳۵۹ ١٣ - كتاب العيدين جائے شارحین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام بخاری نے اس باب میں ترمذی وغیرہ کی روایتیں رد کی ہیں جن میں عید کے لئے چل کر جانے کا ذکر ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۸۲) بِغَيْر أَذَانِ وَلَا إِقَامَة : دوسرا مسئلہ اس باب میں اذان اور تکبیرا قامت کے بغیر نماز پڑھنے کا ہے جو روایت نمبر ۹۶۰،۹۵۹ سے واضح ہے۔دیگر محدثین کی روایتوں میں بھی اس کی صراحت ہے۔امام مسلم نے حضرت جابر سے جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں: فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ آذَانِ وَلَا إِقَامَةٍ (مسلم، کتاب صلاة العيدين، باب) تفصیل کے لیے دیکھتے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۸۳۔امام شافعی نے زہری سے ایک روایت نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ الصَّلاةُ جَامِعَةً کہہ کر اعلان کر دیا جاتا تھا مگر یہ روایت مرسل ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۸۳) امام مالک نے فتویٰ دیا ہے کہ عیدین کی نماز بغیر اذان اور اقامت کا مسئلہ تواتر سے ثابت شدہ ہے۔(موطا امام مالک، کتاب النداء للصلاة، باب العمل فى غسل العيدين والنداء فيهما) روایات اس بارہ میں مختلف ہیں کہ کس نے عید میں اذان دینے کا حکم دیا؟ ابن ابی شیبہ کی مستند روایت حضرت امیر معاویہ کی طرف منسوب ہے اور ابن منذر کی روایت حضرت عبداللہ بن زبیر کی طرف۔دونوں کی روایتیں صحیح ہو سکتی ہیں۔کیونکہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کی بیعت ۶۴ ھ ہجری میں یزید بن معاویہ کے مرنے پر کی گئی تھی۔ہو سکتا ہے کہ حضرت معاویہ کی تقلید میں عیدین میں اذان دینے کا رواج ہو گیا ہو۔چنانچہ روایات سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ زیاد نے بصرہ اور مروان نے مدینہ میں اذان دلوائی جب حضرت عبداللہ بن زبیر نے اپنی ابتدائے خلافت میں نماز عید کے لیے اذان دلوائی تو حضرت ابن عباس نے ان کو کہلا بھیجا کہ یہ طریق درست نہیں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۸۳) باب مذکورہ بالا قائم کر کے امام بخاری یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر مشروعہ عبادات میں شخصی رائے کو آزادی دی جائے گی تو نہ صرف یہ کہ غیر ضروری مسائل شریعت میں داخل ہو جائیں گے۔جیسے چل کر جانے سے متعلق مسئلہ بنالیا گیا۔بلکہ نبی ﷺ کے جاری کردہ طریق عمل میں بھی رد و بدل شروع ہو جائے گا۔بَاب : الْخَطْبَةُ بَعْدَ الْعِيْدِ عید کے بعد خطبہ ٩٦٢: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قال ۹۶۲: (ضحاک بن مخلد ) ابو عاصم نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي کیا ، کہا: ابن جریج نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ حسن بن مسلم نے مجھے بتایا۔انہوں نے طاؤس سے، عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيْدَ مَعَ رَسُوْلِ طاؤس نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ حضرت ابو بکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم