صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 358 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 358

البخاري - جلد ۲ ۳۵۸ ١٣ - كتاب العيدين يَوْمَ الْفِطْرِ وَ إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ زمانہ میں عید الفطر کے دن اذان نہیں دی جاتی تھی اور خطبہ نماز کے بعد ہی ہوتا۔٩٦٠: وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ ۹۶۰: ابن جریج کہتے ہیں : ) اور عطاء نے حضرت عَبَّاسٍ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا لَمْ ابن عباس سے اور حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت يَكُنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ کرتے ہوئے مجھے بتایا۔دونوں نے کہا: عید الفطر میں اذان نہیں دی جاتی تھی اور عید الاضحی میں بھی۔الْأَضْحَى۔:٩٦١ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ :۹۶۱ اور انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے بھی یہ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت نقل کی کہ انہوں نے کہا: میں نے ان سے سنا۔وہ وَسَلَّمَ قَامَ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ خَطَبَ کہتے تھے کہ نبی ﷺ اٹھے اور نماز سے آغاز کیا۔پھر بعد النَّاسَ بَعْدُ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اس کے لوگوں سے مخاطب ہوئے جب نبی ﷺہ خطبہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ سے فارغ ہوئے تو آپ نیچے اترے اور عورتوں کے پاس آئے اور ان کو نصیحت کی اور آپ حضرت بلال کے ہاتھ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ پھیلائے ہوئے تھے عورتیں اس میں صدقہ ڈالتیں۔( ابن صَدَقَةٌ قُلْتُ لِعَطَاءِ أَتَرَى حَقًّا عَلَى جریج کہتے تھے ) میں نے عطاء سے کہا: آپ کا کیا خیال : الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ فَيُذَكِّرَهُنَّ ہے اب بھی امام کے لئے ضروری ہے کہ عورتوں کے حِيْنَ يَفْرُغُ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ لَحَقِّ عَلَيْهِمْ پاس آئے اور انہیں نصیحت کرے جب وہ خطبہ سے وَمَا لَهُمْ أَنْ لَّا يَفْعَلُوْا۔فارغ ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا: یقینا یہ ان کے لئے اطرافه ۹۵۸، ۹۷۸ پر سہارا لئے ہوئے تھے اور حضرت بلال اپنے کپڑے کو ضروری ہے اور انہیں کیا روک ہے کہ وہ ایسا کریں۔اَلْمَشْئُ وَالرَّكُوبُ إِلَى الْعِيدِ : ترندی اور ابن ماجہ کی روایتوں میں آتا ہے کہ نبی و عید کے لئے پیدل چل کر گئے۔(ترمذی، کتاب الجمعه، ابواب العيدين، باب ماجاء في المشي يوم تخصيص العيد) (ابن ماجه، كتاب اقامة الصلاة، باب ما جاء فى الخروج الى العيد ماشيا ) امام بخاری کے نزدیک بلا وجہ ہے۔روایات سے اس کا ثبوت نہیں ملتا سوار ہو کر یا چل کر جیسی ضرورت ہو دونوں طرح عید کے لئے جانا جائز ہے۔اگر اس طرح مسائل بنانے کا دروازہ کھولا جائے گا تو یہ مسئلہ بھی اخذ کرنا ہوگا کہ نماز سے فارغ ہو کر کسی کا سہارا لے کر چلا