صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 343 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 343

صحيح البخاری جلد ۲ ١٢ - كتاب الخوف يَسُرُّني بِتِلْكَ الصَّلَاةِ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا (بن مالک) کہتے تھے کہ اس نماز کے عوض میں دنیا اور جو بھی نعمتیں اس میں ہیں مجھے خوش نہیں کر سکتیں۔٩٤٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا :۹۴۵ جی نے ہم سے بیان کیا، کہا: وکیع نے ہمیں وَكِيعٌ عَنْ عَلِيّ بْن مُبَارَكَ عَنْ يَحْيَى بتایا۔انہوں نے علی بن مبارک سے علی نے مکی بن ابی بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ كثِيرے ہي نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بن عبد الله ( انصاری ) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَيَقُوْلُ يَا حضرت عمر خندق کے دن آئے اور کفار قریش کو برا بھلا رَسُوْلَ اللهِ مَا صَلَّيْتُ الْعَصْرَ حَتَّی کہنے لگے اور کہنے لگے : یارسول اللہ ! میں نے عصر کی نماز كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغِيْبَ فَقَالَ النَّبِيُّ نہیں پڑھی۔مگر اس وقت کہ جب سورج غروب ہونے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَاللهِ مَا کے قریب تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے صَلَّيْتُهَا بَعْدُ قَالَ فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ بھی بخدا ابھی تک نہیں پڑھی۔(حضرت جابر) کہتے فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَابَتِ تھے : آپ بطحان ( کے میدان ) میں گئے اور آپ نے الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بَعْدَهَا۔وضو کیا اور عصر کی نماز سورج غروب ہونے کے بعد پڑھی۔پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔اطرافه ٥٩٦، ٥٩٨، ٦٤، ٤١١۔تشریح: اَخَّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى يَنْكَشِفَ الْقِتَالُ : جنگ کا وقت نہایت نازک ہوتا ہے۔ایک لمحہ بھر کی غفلت حاصل کردہ فتوحات کو شکست میں آنا انا تبدیل کر سکتی ہے۔ایسی نازک حالت میں نبی ہے نے نماز میں تاخیر کی اور جہاد کونماز پر متقدم فرمایا اور صحابہ کرام نے بھی ایسا ہی کیا۔عہد نبوی اور مابعد کے مختلف فتوے عنوانِ باب میں نقل کر کے حضرت انس ہی روایت کا حوالہ دیا ہے۔اس حوالہ سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ صحابہ کرام کا نقطہ نظر مفتیوں کے نقطہ نظر سے جدا ہے۔ایسی نماز جو بوجہ نزاکت موقع بعد از وقت پڑھی گئی، صحابہ کرام کے نزدیک دنیا کی تمام نعمتوں سے محبوب ترین تھی۔کیونکہ وہ فتح کے بعد پڑھی گئی اور شکریہ کے سارے جذبات سے پر تھی۔نماز میں مشار الیہ تاخیر عمداً نہیں کی گئی تھی۔فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الصَّلوۃ ان کے لئے نماز پڑھنا ممکن نہ تھا۔شدت جنگ کی وجہ سے باوجود کوشش کے نماز پڑھنے کا موقع نہ ملا عمل صالح وہ عمل ہے جو باقتضائے حال و وقت برمحل و موقع ہو۔