صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 342
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۴۲ ١٢ - كتاب الخوف ابوداؤد اور نسائی کی روایت فَرَضَ اللهُ الصَّلوةَ عَلَى لِسَان نَبِيِّكُمْ فِى الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكَعَتَيْنِ وَفِي الْحَوْفِ رَكْعَةً بھی اس امر کی تائید کرتی ہے۔(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة المسافرين وقصرها) ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب من قال يصلى بكل طائفة ركعة ولا يقضونه) (نسائی، کتاب صلاة الخوف، بابا) اور یہ روایت بھی حضرت ابن عباس ہی کی ہے۔دونوں روایتیں متناقض نہیں۔بعض وقت شدت خوف میں ایسا بھی کیا گیا ہے کہ صرف ایک رکعت پڑھی گئی ہے اور یہ ادائیگی نماز خوف کی مختلف صورتیں ہیں جو بوجہ اختلاف حالات اختیار کی گئی ہیں۔بَاب ٤ : الصَّلَاةُ عِنْدَ مُنَاهَضَةِ الْحُصُونِ وَلِقَاءِ الْعَدُةِ قلعوں پر چڑھائی اور دشمن سے مٹھ بھیڑ کے وقت نماز پڑھنا وَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ إِنْ كَانَ تَهَيَّأَ الْفَتْحُ اور اوزاعی نے کہا: اگر فتح کی صورت قریب ہو اور لوگ وَلَمْ يَقْدِرُوْا عَلَى الصَّلَاةِ صَلَّوْا إِيْمَاءً پوری طرح سب ارکان ادا کر کے نماز نہ پڑھ سکیں تو وہ كُلُّ امْرِئٍ لِنَفْسِهِ فَإِنْ لَّمْ يَقْدِرُوْا عَلَى اشارہ سے ہی پڑھ لیں۔ہر شخص اپنے اپنے طور پر اور اگر الْإِيْمَاءِ أَخَرُوْا الصَّلَاةَ حَتَّى يَنْكَشِفَ اشارہ بھی نہ کر سکتے ہوں تو وہ نماز ملتوی کردیں۔یہاں الْقِتَالُ أَوْ يَأْمَنُوْا فَيُصَلُّوْا رَكَعَتَيْنِ فَإِنْ تک کہ جنگ کا نتیجہ ظاہر ہو یاوہ امن میں ہو جائیں تو وہ لَّمْ يَقْدِرُوْا صَلَّوْا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ دور کعتیں پڑھ لیں اگر نہ پڑھ سکتے ہوں تو ایک ہی رکعت دوسجدوں کے ساتھ پڑھ لیں (اور اگر یہ بھی نہ کرسکیں تو جل) {فَإِنْ لَّمْ يَقْدِرُوْا فَلَا يُجْزَتُهُمْ صرف اللہ اکبر کہنا کافی نہیں ہوگا اور وہ اسے ملتوی رکھیں۔التَّكْبِيرُ وَيُؤَخِّرُوْهَا حَتَّى يَأْمَنُوْا وَبِهِ یہاں تک کہ وہ امن میں ہو جا ئیں اور کھول ( تابعی ) کا ہوجائیں قَالَ مَكْحُولٌ وَقَالَ أَنَسٌ حَضَرْتُ بھی یہی قول ہے اور حضرت انس بن مالک ) نے کہا کہ عِنْدَ مُنَاهَضَةِ حِصْنِ تُستَرَ عِنْدَ إِضَاءَةِ میں تُنتر کے قلعہ کی چڑھائی میں موجود تھا جو صبح کی روشنی الْفَجْرِ وَاشْتَدَّ اشْتِعَالُ الْقِتَالِ فَلَمْ میں ہوئی۔لڑائی خوب گرم ہوئی اور لوگ نماز نہ پڑھ سکے يَقْدِرُوا عَلَى الصَّلَاةِ فَلَمْ نُصَلِّ إِلَّا بَعْدَ اور ہم نے دن چڑھنے کے بعد ہی نماز پڑھی۔ہم نے نماز نے ارْتِفَاعِ النَّهَارِ فَصَلَّيْنَاهَا وَنَحْنُ مَعَ پڑھ لی اور اس وقت ہم حضرت ابوموسیٰ (اشعری) کے أَبِي مُوسَى فَفُتِحَ لَنَا وَقَالَ أَنَسٌ وَمَا ساتھ تھے ( قلعہ ) ہمارے لئے فتح ہو گیا۔حضرت انس الفاظ " فَإِن لَّمْ يَقْدِرُوا فَلَا يُجْزِئُهُمْ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۵۵۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔